اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے سابق سیکرٹری جنرل اور قومی فٹ بال ٹیم کے سابق کپتان کرنل (ریٹائرڈ) مجاہد اللہ ترین نے کہا ہے کہ اے ایف سی ایشین فٹ بال کپ سعودی عرب 2027ء کے کوالیفائنگ رائونڈ کے میچ میں پاکستان، شام کے خلاف ہوم گرائونڈ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا، پاکستان اور شام کی ٹیموں کے درمیان میچ 18 …
اے ایف سی ایشین فٹ بال کپ کے کوالیفائنگ رائونڈ کے میچ میں پاکستان شام کے خلاف ہوم گرائونڈ کا فائدہ اٹھائے گا، کرنل (ر) مجاہد اللہ ترین

مزید خبریں
اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے سابق سیکرٹری جنرل اور قومی فٹ بال ٹیم کے سابق کپتان کرنل (ریٹائرڈ) مجاہد اللہ ترین نے کہا ہے کہ اے ایف سی ایشین فٹ بال کپ سعودی عرب 2027ء کے کوالیفائنگ رائونڈ کے میچ میں پاکستان، شام کے خلاف ہوم گرائونڈ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا، پاکستان اور شام کی ٹیموں کے درمیان میچ 18 نومبر کو جناح سٹیڈیم اسلام آباد میں کھیلا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نےجناح سٹیڈیم اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ کرنل (ریٹائرڈ) مجاہد اللہ ترین نے کہا کہ شام نے مارچ 2025ء میں سعودی عرب میں کھیلے گئے اپنے ہوم میچ میں پاکستان کو 0-2 گول سے شکست دی تھی لیکن پھر بھی نئے مقرر کردہ کوچ کے تحت شام کی ٹیم کمزور پاکستانی ٹیم کے خلاف متاثر کن نہیں تھی۔ فیفا رینکنگ میں شام 98 اور پاکستان 198 ویں نمبر پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ 18 نومبر کو جناح سٹیڈیم اسلام آباد میں ہونے والے اپنے ہوم میچ میں پیرو سے نئے تعینات ہونے والے کوچ سولانو کی قیادت میں پاکستان سے بہتر مظاہرہ کرنے کی توقع ہے۔ پاکستان کو ایشین کوالیفائر گروپ ای میں افغانستان، میانمار اور شام کے ساتھ رکھا گیا ہے اس وقت ایشین کوالیفائر کے گروپ ای میں شام سرفہرست ہے اور پاکستان سب سے نیچے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آفریدی اور عبداللہ شاہ دفاع میں کمزور ہیں۔ ہمارا دفاع مکمل طور پر عبداللہ اقبال پر منحصر ہے۔ مڈ فیلڈ کھلاڑی بھی اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے ۔ اٹیک میں کلیم اللہ، گلزاری، اوٹس اور اعتزاز متاثر کن تھے اور اگر وہ مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو پاکستان ہوم کرائوڈ کے سامنے سرپرائز دینے کی پوری صلاحیت رکھتے تھے۔پاکستانی ٹیم کے نئے تعینات کوچ ٹیم کی کارکردگی کو بہتر کرنے کے لئے سخت محنت کر رہے ہیں
لیکن وقت کی قلت اور تربیتی کیمپ کے لئے کھلاڑیوں کی بیرون ملک مصروفیات کے باعث ٹیم کی کارکردگی توقعات سے کم ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مختلف وجوہات کی بناء پر سولانو کو بہترین ممکنہ معاون عملہ فراہم نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ سے ٹیم کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان اگر جارحانہ انداز اپنائے تو اچھے نتائج امید کی جاسکتی ہے ۔








