اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا ہے کہ جاپان کی جانب سے پاکستان انسداد پولیو پروگرام کیلئے 3.5 ملین ڈالر گرانٹ کا اعلان کیا گیا ہے، اس گرانٹ کے ذریعے 24 لاکھ سے زائد پولیو ویکسین کی خوراکیں خریدی جائیں گی۔اس سلسلہ میں قومی آپریشن سینٹر میں مفاہمت کی یادداشت پر جاپان اور یونیسیف کے درمیان معاہدے پر دستخط کی …
جاپان کی جانب سے پاکستان انسداد پولیو پروگرام کیلئے 3.5 ملین ڈالر گرانٹ کا اعلان کیا گیا ہے، عائشہ رضا فاروق

مزید خبریں
اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا ہے کہ جاپان کی جانب سے پاکستان انسداد پولیو پروگرام کیلئے 3.5 ملین ڈالر گرانٹ کا اعلان کیا گیا ہے، اس گرانٹ کے ذریعے 24 لاکھ سے زائد پولیو ویکسین کی خوراکیں خریدی جائیں گی۔اس سلسلہ میں قومی آپریشن سینٹر میں مفاہمت کی یادداشت پر جاپان اور یونیسیف کے درمیان معاہدے پر دستخط کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ اس گرانٹ سے پولیو وائرس کے پھیلائو کو روکنے اور گزشتہ کامیابیوں کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔نیشنل ای او سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان دنیا کے ان دو ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے، پاکستان میں اس سال اب تک پولیو کے 30 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے مشترکہ اور مربوط حکمت عملی پر تیزی سے عمل جاری ہے، پولیو کے خاتمے کے لیے جاپان کے مسلسل تعاون پر شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری مالی امداد سے بڑھ کر یکجہتی اور مشترکہ مقصد کی علامت ہے، پولیو ویکسین کی ہر خوراک پاکستان کو پولیو سے پاک منزل کے مزید قریب لے آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعینات جاپان کے سفیر نے پاکستان کی صحت عامہ کی ترجیحات کے لیے اپنے طویل المدتی عزم کا اعادہ کیا، جاپان کی حکومت 1996ء سے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی دیرینہ شراکت دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاپان نے پولیو کے خلاف جنگ میں 245 ملین ڈالر سے زائد گرانٹس اور قرضے فراہم کیے۔یونیسف کے نمائندہ برائے پاکستان پرنیلا آئیرنسائیڈ نے کہا کہ جاپان کی 245 ملین ڈالر کی معاونت پولیو فری پاکستان کے ہدف میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جاپان کی شراکت ہر بچے تک ویکسین پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگی، یونیسف، حکومت اور کمیونٹیز جاپان کی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔








