اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) سے متعلق فیصلے پر دائر نظرِ ثانی درخواستوں کے حوالے سے اپنا تحریری تفصیلی فیصلہ منگل کو جاری کر دیا جس میں عدالت نے واضح کیا ہے کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد نظر ثانی پٹیشنز کو اصل بنچ کے سامنے مقرر کرنا آئینی طور پر ممکن نہیں رہا۔ عدالت نے اس بنیاد پر تینوں …
سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کیس کا تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) سے متعلق فیصلے پر دائر نظرِ ثانی درخواستوں کے حوالے سے اپنا تحریری تفصیلی فیصلہ منگل کو جاری کر دیا جس میں عدالت نے واضح کیا ہے کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد نظر ثانی پٹیشنز کو اصل بنچ کے سامنے مقرر کرنا آئینی طور پر ممکن نہیں رہا۔ عدالت نے اس بنیاد پر تینوں متفرق درخواستیں خارج کر دیں۔
تحریری فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے مفصل نوٹ تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئین میں ترمیم کے بعد آرٹیکل 191A کے ذریعے قائم ہونے والے آئینی بنچ سپریم کورٹ کے دائرہ کار کے بارے میں بنیادی تبدیلی لاتے ہیں۔ اس ترمیم کے تحت تمام زیر التواء آئینی مقدمات خودبخود آئینی بنچوں کو منتقل ہو چکے ہیں، لہٰذا سپریم کورٹ رولز کا وہ اصول قابل اطلاق نہیں رہا جس کے مطابق نظر ثانی پٹیشن وہی بنچ سنتا ہے جس نے اصل فیصلہ دیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 191A کے ذریعے حاصل کردہ اختیارات آئین سے ماخوذ ہیں۔ سپریم کورٹ رولز کے کسی بھی اصول کو آئینی حکم کے بالمقابل فوقیت نہیں دی جا سکتی۔عدالت کے مطابق باقی 41 آزاد امیدوار کسی بھی جماعت میں شمولیت کا انتخاب کر سکتے تھے کیونکہ ان کی سیاسی وابستگی واضح نہیں تھی ۔ جسٹس مندوخیل نے لکھا کہ اگر عدالتی کمیٹی چاہتی تو وہ ججوں کی نامزدگی کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) سے رجوع کر کے اصل بنچ کو آئینی بنچ کا حصہ بنا سکتی تھی تاکہ نظرِ ثانی اسی کے سامنے ہو سکے، مگر اکثریت نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا۔
فیصلے میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ نظرِ ثانی کی کارروائی اپیل کا متبادل نہیں ہوتی اور اس میں صرف وہی غلطی دیکھی جاتی ہے جو ریکارڈ سے نمایاں ہو، نہ کہ پورے مقدمے کا دوبارہ جائزہ لیا جاتا ہے۔نظرِ ثانی پٹیشنز اب آئینی بنچ ہی کی سماعت میں رہیں گی اور خارج کی گئی متفرق درخواستوں کے قانونی اسباب تفصیلی فیصلے میں درج ہیں۔








