کسی شہری کا کسی فوجداری مقدمے میں اشتہاری یا مفرور قرار پانا بذاتِ خود اسے سول یا سروس معاملات میں قانونی چارہ جوئی سے محروم نہیں کرتا، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسی شہری کا کسی فوجداری مقدمے میں اشتہاری یا مفرور قرار پانا بذاتِ خود اسے سول یا سروس معاملات میں قانونی چارہ جوئی سے محروم نہیں کرتا کیونکہ فوجداری اور دیوانی دائرہ اختیار ایک دوسرے سے الگ اور خود مختار ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے منگل کو منظور شدہ جاری تحریری فیصلے کے مطابق …

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسی شہری کا کسی فوجداری مقدمے میں اشتہاری یا مفرور قرار پانا بذاتِ خود اسے سول یا سروس معاملات میں قانونی چارہ جوئی سے محروم نہیں کرتا کیونکہ فوجداری اور دیوانی دائرہ اختیار ایک دوسرے سے الگ اور خود مختار ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے منگل کو منظور شدہ جاری تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سول پٹیشنز نمبر 41-Q اور 42-Q آف 2022 نمٹاتے ہوئے 24اکتوبر کوپنجاب سروس ٹریبونل کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس میں درخواست گزار اساتذہ کی اپیل صرف اس بنیاد پر ناقابلِ سماعت قرار دی گئی تھی کہ وہ ایک فوجداری مقدمے میں اشتہاری ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’فوجیٹیو ڈس انٹائٹلمنٹ‘‘ کا اصول خالصتاً فوجداری دائرے تک محدود ہے اور اسے سروس یا سول معاملات پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10-اے اور 25 ہر شہری کو منصفانہ سماعت اور انصاف تک رسائی کا بنیادی حق فراہم کرتے ہیں جسے محض اس وجہ سے سلب نہیں کیا جا سکتا کہ متعلقہ شخص کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اشتہاری قرار دینے کے قانونی اثرات صرف اسی فوجداری کارروائی تک محدود ہوتے ہیں جس میں اشتہاری قرار دیا گیا ہو اور اس حیثیت کی بنیاد پر سروس یا روزگار سے متعلق حقوق کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ متعلقہ قانون میں واضح ممانعت موجود نہ ہو۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ درخواست گزار اساتذہ کے معاملات ، جن میں ان کی تقرریوں کی حیثیت، انضباطی کارروائی کی قانونی حیثیت اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے نکات شامل ہیں خالصتاً سروس قوانین کے تحت طے ہونے والے سوالات ہیں جن کا فوجداری کارروائی سے کوئی تعلق نہیں۔عدالتِ عظمیٰ نے ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ پنجاب سروس ٹریبونل کو بھجوا دیا اور ہدایت کی کہ اپیلوں کو زیر التواء تصور کرتے ہوئے تین ماہ کے اندر میرٹ پر فیصلہ کیا جائے کیونکہ یہ معاملہ 2015 سے التوا کا شکار ہے۔