آئی ایس ایس آئی کے سینٹر فار سٹرٹیجک پرسپیکٹیو کے زیرِ اہتمام پاکستان اور روس کے تاریخی و تزویراتی تعلقات پر مبنی ترمیم شدہ کتاب کی تقریبِ رونمائی

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار سٹرٹیجک پرسپیکٹیو کے زیرِ اہتمام پاکستان اور روس کے تاریخی و تزویراتی تعلقات پر مبنی ترمیم شدہ کتاب ’’پاکستان روس ریلیشنز: ایک جامع تاریخی اور تزویراتی تجزیہ‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب میں دونوں ممالک کے سینئر سفارتکاروں، ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں اور مختلف شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی جو …

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار سٹرٹیجک پرسپیکٹیو کے زیرِ اہتمام پاکستان اور روس کے تاریخی و تزویراتی تعلقات پر مبنی ترمیم شدہ کتاب ’’پاکستان روس ریلیشنز: ایک جامع تاریخی اور تزویراتی تجزیہ‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب میں دونوں ممالک کے سینئر سفارتکاروں، ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں اور مختلف شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی جو بدلتے ہوئے عالمی منظرنامہ میں پاک روس تعلقات کی بڑھتی اہمیت کی عکاس ہے۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی سینیٹر مشاہد حسین سید تھے جبکہ روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے بطور مہمانِ اعزاز شرکت کی۔

ڈی جی آئی ایس ایس آئی سفیر سہیل محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ 75 برسوں کے دوران پاکستان اور روس کے تعلقات سرد جنگ کے ماحول سے نکل کر سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی ہم آہنگی کی طرف نمایاں پیشرفت کر چکے ہیں۔ انہوں نے صنعتی تعاون، توانائی منصوبوں اور تاریخی ثالثی جیسے تاشقند اعلامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کبھی منقطع نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی، دفاعی مکالمے، توانائی اور زراعت جیسے شعبوں میں بڑھتا تعاون ایک نئے دور کی بنیاد رکھ رہا ہے۔

قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش رئیس نے کتاب کو جامع اور بصیرت افروز قرار دیتے ہوئے پاکستان روس تعلقات کے تاریخی ارتقاء، خطے کی سیاسی تبدیلیوں اور نئے تعاون کے امکانات کا تفصیلی احاطہ کرنے پر مصنفین کی کاوش کو سراہا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پابندیوں، مالیاتی رکاوٹوں اور افغانستان کی صورتحال جیسے چیلنجز پر قابو پانے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔رشین اکیڈمی آف سائنسز کے ڈاکٹر ویاچسلاو بیلوکرینٹسکی نے کہا کہ کتاب روس میں پاکستان سے متعلق بڑھتی تحقیقی دلچسپی کا مظہر ہے۔

انہوں نے علمی تعاون کے فروغ کو دوطرفہ اعتماد کے لئے اہم قرار دیا۔سابق سفیر اور سی آئی ایس ایس سندھ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر قاضی ایم خلیل اللہ نے کہا کہ جدید روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات باہمی احترام، خیر سگالی اور توانائی، دفاع اور کثیرجہتی تعاون کے فروغ پر مبنی ہیں۔ انہوں نے دفاعی تعاون کے 2014 کے معاہدے اور پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن کو اہم سنگ میل قرار دیا۔روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ بینکنگ اور پابندیوں سے قبل پاک روس تجارت ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔ انہوں نے ثقافتی روابط، تعلیمی تعاون اور طلبہ و محققین کے باہمی تبادلوں کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کتاب کو “تاریخی کارنامہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی چیلنجز اور ’’غیر قانونی مغربی پابندیوں‘‘ کے باوجود دوطرفہ تعاون میں توسیع ہو رہی ہے۔ انہوں نے تجارت میں اضافے، پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی پر جاری بات چیت اور پاکستانی طلبہ کے لیے روسی وظائف میں تین گنا اضافہ جیسے اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں ایک اہم شراکت دار ہے اور روس اسے یوریشین رابطہ کاری کے اہم مرکز کے طور پر دیکھتا ہے۔مہمانِ خصوصی سینیٹر مشاہد حسین سید نے روس کے فلسطین پر اصولی مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی سیاسی تبدیلیاں خصوصاً مغربی تسلط میں کمی اور گلوبل ساؤتھ کا ابھار پاکستان اور روس کے لئے غیر معمولی تعاون کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے تاریخی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے یاد دلایا کہ سوویت یونین نے 1949 میں پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو دورے کی دعوت دی تھی، کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی حمایت کی اور وقت سے پہلے اسٹیل مل کی پیشکش بھی کی تھی۔ انہوں نے پاکستان میں یوریشین کنیکٹیویٹی فورم کے قیام کی تجویز پیش کی۔آخر میں چیئرمین آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمود نے کہا کہ سرد جنگ کے دوران بھی پاکستان اور روس کے تعلقات کبھی ختم نہیں ہوئے اور آج یہ تعاون علاقائی استحکام، رابطہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔تقریب میں شریک پاکستانی اور روسی مصنفین نے اپنے اپنے ابواب پر مختصر اظہارِ خیال بھی کیا، جبکہ تقریب کا اختتام باہمی تعاون کے تسلسل اور مضبوط مستقبل کی توقعات کے اظہار کے ساتھ ہوا۔