ماسکو۔18نومبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 17 اور 18 نومبر 2025 کو ماسکو میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کونسل کے سربراہان حکومت اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی، کونسل کے اجلاسوں میں پاکستان کے قومی بیانیے پیش کئےاور اجلاس کے موقع پر دیگر ایس سی او رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے …
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ایس سی او کونسل کے سربراہان حکومت اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت

مزید خبریں
ماسکو۔18نومبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 17 اور 18 نومبر 2025 کو ماسکو میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کونسل کے سربراہان حکومت اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی، کونسل کے اجلاسوں میں پاکستان کے قومی بیانیے پیش کئےاور اجلاس کے موقع پر دیگر ایس سی او رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے ایس سی او رکن ممالک کے سربراہان حکومت کی روسی فیڈریشن کے صدر ولادی میر پیوٹن سے مشترکہ ملاقات میں پاکستان کی نمائندگی کی، جنہوں نے ماسکو میں تمام وفود کا خیرمقدم کیا۔
کونسل کے محدود فارمیٹ (صرف ایس سی او اراکین) کے اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے "شنگھائی سپرٹ” کے لیے پاکستان کے عزم کی تجدید کی۔ انہوں نے رابطہ کاری، توانائی، نقل و حمل کے روابط، لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر کی ترقی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کو پاکستان کی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی ادائیگیوں کے لیے قومی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کریں، نیز ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک، ایس سی او ڈویلپمنٹ فنڈ اور ایک سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کی اپیل کی۔ علاقائی صورتحال کے حوالے سے نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے علاقائی مسائل کے مکمل اسپیکٹرم کو حل کرنے کے لیے جامع مکالمے کا آغاز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے افغانستان میں استحکام ناگزیر ہے۔ایس سی او کونسل سربراہان حکومت کے توسیعی فارمیٹ کے اجلاس میں اپنے خطاب میں نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے ٹھوس اقدامات کے ذریعے معاشی رابطوں کے فروغ کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل ترقی کے ذریعے زیادہ معاشی انضمام کی ضرورت پر زور دیا۔ انسانی ہمدردی کے شعبے میں انہوں نے آفات کے دوران تیاریوں (آفات پریپیئرڈنیس) کے حوالے سے پاکستان کے تجربے کو شیئر کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے تنظیم کے کام میں انگریزی کے استعمال کو ہموار کر کے ایس سی او کی جدت اور اس کے عالمی رسائی کو وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔
انہوں نے مبصر (آبزرور) اور پارٹنر ممالک کے ساتھ گہرے تعاون کی تجویز پیش کی تاکہ مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے منصوبہ بندی کی بنیاد پر انہیں اقدامات میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے ایس سی او ممالک میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی تعاون مہیا کرنے کے لیے ایس سی او انٹر بینک کنسورشیم کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی بھی تجویز دی۔ مزید برآں انہوں نے تعلیمی روابط کو مضبوط بنا کر انسانی سرمایہ کی تعمیر اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا، نیز ایس سی او یونیورسٹی نیٹ ورک کو اطلاقی علم کے کنسورشیم میں تبدیل کرنے پر زور دیا۔ توسیعی فارمیٹ کے اجلاس کے دوران شرکاء نے تنظیم کی سرگرمیوں کی جدیدیت اور تیانجن میں منعقدہ ایس سی او سمٹ کے نتائج کے تناظر میں ایس سی او کے اندر تجارتی، معاشی، ثقافتی اور انسان دوستانہ تعاون کی ترقی، جس میں مبصر ممالک اور شراکت داروں کی شمولیت بھی شامل ہے کے موضوع پر غور کیا۔
اس اجلاس میں منگولیا کے وزیراعظم، قطر کے وزیر خارجہ، کویت، بحرین، مصر اور ترکمانستان کے نمائندوں کے علاوہ سی آئی ایس، ایک اے ایف یو، سی ایس ٹی او اور سی آئی سی اے جیسی بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ ماسکو میں منعقدہ اس ایس سی او کونسل نے تقریباً ایک درجن فیصلوں، دستاویزات اور بیانات پر غور و خوض کر کے انہیں منظور کیا۔ ایس سی او رہنماؤں نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں اقتصادی تعاون کے حوالے سے ایس سی او کے مستقبل کے کام کے لیے حکمت عملی کی سمت کا تعین کیا گیا۔ سربراہان حکومت کی کونسل (سی ایچ جی) ایس سی او کا دوسرا اعلیٰ ترین فورم ہے، جو بنیادی طور پر سماجی و اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی شعبوں میں رکن ممالک کے درمیان تعاون پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں کونسل کا اجلاس پاکستان کی صدارت میں اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا۔








