معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے نبردآزما ہونا موجودہ حکومتِ کی اولین ترجیات میں شامل ہے، وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد اﷲ خان اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے کہا ہے کہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے نبردآزما ہونا موجودہ حکومتِ کی اولین ترجیات میں شامل ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا سبب بننے والے ممالک …
معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے نبردآزما ہونا موجودہ حکومتِ کی اولین ترجیات میں شامل ہے، وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد اﷲ خان

مزید خبریں
معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے نبردآزما ہونا موجودہ حکومتِ کی اولین ترجیات میں شامل ہے، وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد اﷲ خان
اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے کہا ہے کہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے نبردآزما ہونا موجودہ حکومتِ کی اولین ترجیات میں شامل ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا سبب بننے والے ممالک کی فہرست میں بہت آخر میں ہے تاہم بین الاقوامی طور پر اس مسئلہ سے نمٹنے میں اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا رہے گا، موسمیاتی تبدیلی کا سدِباب بہم معاشی ترقی کے پائیدار ماڈل کا اہم جزو ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اقوام متحدہ کے زیرانتظام کلین ڈویلپمنٹ میکنزم پر 2روزہ قومی تربیتی ورکشاپ کے شرکاءسے اہم خطاب میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا باعث بننے والے کاربن کے اخرج کو کم سطح پر لانے کے اقدامات میں کلین ڈویلپمنٹ میکنزم کو اہم ترین حیثیت حاصل ہے، یہ موجودہ وقت تک عمل میں لایا جانے والاوہ واحد قدم ہے جو نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے سدِباب کےلئے موثر ثابت ہوا بلکہ پائیدار ترقی کےلئے اربوں ڈالر کی بین الاقوامی سرمایہ کاری کا باعث بن رہا ہے، اس کامیابی کے بر عکس پاکستان سی ڈی ایم کے منصوبوں کی دنیا عالم میں غیر منصفانہ تقسیم کے عوامل سے بھی آشنا ہے اور اپنا جائز حصہ لینے کےلئے بھی کوشاں ہے۔ وزاتِ موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں کلین ڈویلپمنٹ میکنزم کے انتظام کی نامزد قومی اتھارٹی ہے۔ سی ڈی ایم کے فروغ کےلئے اپنائی جانے والی حکمتِ عملی ملک میں کاربن کے اخراج میں کمی کا باعث بننے والے منصوبوں کےلئے بے پناہ مراعات پیش کرتی ہے۔ اس ضمن میں اب تک 76 منصوبوں کی قومی طور پر منظوری دی جا چکی ہے اور ان میں سے کئی سی ڈی ایم کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری پانے کے بعد بھرپور منافع کما رہے ہیں۔








