اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن بل 2017ء40 سال بعد شق وار منظور کر لیا۔ الیکشن کمیشن کو اختیارات اور مالی امور سمیت ہر لحاظ سے خود مختار بنا دیا گیا ہے، الیکشن کے عمل کو ہر لحاظ سے شفاف اور غیر جانبدار بنایا جائے گا، بنیادی طور پر بل کے 15 …
وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن بل 2017ء40 سال بعد شق وار منظور کر لیا۔ الیکشن کمیشن کو اختیارات اور مالی امور سمیت ہر لحاظ سے خود مختار بنا دیا گیا ہے، الیکشن کے عمل کو ہر لحاظ سے شفاف اور غیر جانبدار بنایا جائے گا، بنیادی طور پر بل کے 15 باب ہیں جن میں 8 قوانین کو شامل کیا گیا ہے، بل کے اندر رولز پر عملدرآمد یقینی کیا جا سکے گا۔ منگل کو پارلیمنٹ کے باہر وزیر قانون نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، انہیں ووٹ کا حق دینے کیلئے معاملہ ایک مرتبہ پھر مرکزی کمیٹی میں زیر بحث لایا جائے گا۔ تجویز دی گئی ہے کہ غیر ملکی پاکستانی باشندوں کے ووٹ کیلئے بائیو میٹرک سسٹم اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے اظہار رائے کا حق دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالہ سے پارلیمانی کمیٹی نے مجموعی طور پر 129 اجلاس کئے جس میں سب کمیٹی نے 93، مرکزی کمیٹی نے 25 اور دیگر متعلقہ کمیٹیوں نے 11 اجلاس کئے، آج اسمبلی نے اس بل کو تاریخی طور پر شق وار منظور کیا ہے جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، بل کی تیاری میں پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، اے این پی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، جمعیت علماءاسلام (ف)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی سمیت دیگر تمام جماعتوں نے بھرپور کردار ادا کیا جس کیلئے ہم ان کے مشکور ہیں، بل کی منظوری سے انتخابات کے حوالہ سے ہمارے پاس ایک قانونی طریقہ کار سامنے آ گیا ہے، قوانین کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے گا۔








