اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی سے متعلق تقریر میں کوئی نئی چیز سامنے نہیں آئی‘نئی افغان پالیسی میں کوئی واضح حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا گیا ‘ امریکہ افغانستان میں جنگ جیتنا نہیںبلکہ شکست سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے ‘افغانستان میں امریکی فورسز کی موجودگی کے باوجودپاکستان …
وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان کی قومی ٹیلی ویژن پر امریکی صدر کی جانب سے افغان پالیسی کے اعلان پرگفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی سے متعلق تقریر میں کوئی نئی چیز سامنے نہیں آئی‘نئی افغان پالیسی میں کوئی واضح حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا گیا ‘ امریکہ افغانستان میں جنگ جیتنا نہیںبلکہ شکست سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے ‘افغانستان میں امریکی فورسز کی موجودگی کے باوجودپاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے‘ امریکی فورسز کو اس صورتحال کی ذمہ داری لینا ہوگی ‘یہ امر واضح ہے کہ2014 میں شروع آپریشن ضرب عضب اورآپریشن ردالفساد کے بعد پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں نہیں رہیں ‘ امریکہ ‘ افغانستان اور دیگر اتحادیوںکو یہ غلط فہمی ہے کہ شاید پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو براہ راست افغانستان میں امن قائم کرسکتا ہے ‘پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں اندرونی مفاہمت ہو‘ہم اس کے لئے سہولت کار بننے کے لئے تیار ہیں لیکن ضامن نہیں بن سکتے ‘ وزیر خارجہ خواجہ آصف اسی ہفتے واشنگٹن کا دورہ کرنے جارہے ہیں جو بے لاگ ڈائیلاگ کا حصہ ہے‘پاکستانی قوم ‘مسلح افواج ‘قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور کامیابیاں حاصل کر کے تاریخی مثال قائم کر دی ہے ‘دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے جتنی قربانیاں دیں ہیں اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی‘دنیا ہماری قربانیوں کا اعتراف کرے، منتخب حکومتوں کے ادوار میںبین الاقوامی تعلقات میں زیادہ بہتر ی ہوتی ہے ‘پاکستان ہر قسم کا دباﺅ برداشت کر نے کی صلاحیت رکھتا ہے ‘ ٹرمپ کی بھارت کے معاشی کردار پر بات کرنا سی پیک کا براہ راست ردعمل ہے ‘جسطرح پاکستان نے چین کے ساتھ تعلقات میں نئی معاشی گہرائی کو پوری دنیا نے نوٹ کیا ۔وہ منگل کی رات قومی ٹیلی ویژن پر امریکی صدر کی جانب سے افغان پالیسی کے اعلان پرگفتگو کر رہے تھے ۔








