اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) سینٹ نے معلومات تک رسائی کے حق کا بل 2017ءکی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔ منگل کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے تحریک پیش کی کہ معلومات تک رسائی کے حق کا بل 2017ءقائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل آرٹیکل 19 …
وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا سینیٹ میں اظہار خیال اور میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) سینٹ نے معلومات تک رسائی کے حق کا بل 2017ءکی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔ منگل کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے تحریک پیش کی کہ معلومات تک رسائی کے حق کا بل 2017ءقائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل آرٹیکل 19 A کی عملی شکل ہے۔ 2016ءمیں سابق وزیراعظم نے اس سلسلے میں ایک وزارتی کمیٹی بنائی تھی جس کے بعد ایک سیلیکٹ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ سینیٹر کامل علی آغا نے اپنا ایک پرائیویٹ ممبر بل بھی جمع کرایا ہوا تھا جبکہ سینیٹر فرحت اللہ بابر کی اس بل کی تیاری کے حوالے سے بہت خدمات ہیں جس پر ہم انہیں اور پورے ایوان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں تین شعبوں شفافیت، گورننس اور عوام کی شرکت کو یقینی بنایا گیا ہے اور عوامی مفاد کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔ نیشنل سیکورٹی انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے لیکن عوامی مفاد کو بھی بل کی تیاری میں پیش نظر رکھا گیا ہے اور اس کے علاوہ پارلیمانی نگرانی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ معلومات تک رسائی کے لئے 10 دن کی مدت کا بھی تعین کیا گیا ہے اور رسائی نہ دینے کی وجہ بھی تانا پڑے گی۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ یہ باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے تیار کیا گیا ہے، یہ بہت اچھی دستاویز ہے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سینٹ میں تمام سیاسی جماعتیں اور صوبے اس بل پر متفق ہیں، اب کوئی قومی سلامتی کے نام پر معلومات نہیں روک سکے گا۔ سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ یہ بہت اچھا بل ہے، اس پر تمام فریقین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اس اہم معاملہ پر متفقہ بل لانے پر وہ وزیر مملکت برائے اطلاعات اور پورے ایوان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اس بل کی منظوری سے یہ بات ابھر کر سامنے آئے گی کہ پارلیمان ہی وہ واحد جگہ ہے جس میں تمام متعلقہ فریقین اکٹھے ہو سکتے ہیں اور اپنا نکتہ نظر پیش کر سکتے ہیں جس کے بعد پارلیمان اس پر اتفاق رائے پیدا کرتی ہے۔








