اقوام متحدہ ۔25نومبر (اے پی پی):چین نے کہا ہے کہ غزہ میں پائیدار جنگ بندی اولین ترجیح ہے۔ شنہوا کےمطابق چین کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب فو کونگ نے کہا ہے کہ غزہ میں مستقل اور جامع جنگ بندی کا حصول اس وقت عالمی برادری کی سب سے بڑی ترجیح ہونا چاہیے۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ چین غزہ میں جنگ بندی …
غزہ میں پائیدار جنگ بندی اولین ترجیح ہے، چین

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔25نومبر (اے پی پی):چین نے کہا ہے کہ غزہ میں پائیدار جنگ بندی اولین ترجیح ہے۔ شنہوا کےمطابق چین کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب فو کونگ نے کہا ہے کہ غزہ میں مستقل اور جامع جنگ بندی کا حصول اس وقت عالمی برادری کی سب سے بڑی ترجیح ہونا چاہیے۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ چین غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے سے متعلق معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے، لیکن فلسطین اور اسرائیل کے درمیان حقیقی امن ابھی بہت دور ہے اور شہریوں کی مشکلات بدستور جاری ہیں۔انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ جنگ بندی کے باوجود تشدد کے واقعات میں کمی نہیں آئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی 400 سے زائد خلاف ورزیاں کر چکا ہے، جن کے نتیجے میں 300 سے زیادہ شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ جنگ بندی کا مطلب تمام حملوں کا مکمل خاتمہ ہے، اور اس کی پابندی مخلصانہ طور پر تمام فریقوں کو کرنی چاہیے۔
شہری ہلاکتوں کا باعث بننے والا کوئی بھی واقعہ ناقابل قبول ہے، اور بار بار ہونے والے حملے غزہ میں معمول نہیں بننے چاہئیں۔چینی مندوب نے غزہ کی بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری پریشانی ظاہر کی اور کہا کہ امدادی رسائی مسلسل رکاوٹوں کا شکار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، تمام گزرگاہیں کھولے، امدادی رسائی پر پابندیاں ختم کرے اور اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیوں کو اپنے کام کی مکمل اجازت دے۔
فو کونگ نے کہا کہ غزہ سے متعلق مستقبل کے انتظامات میں یہ اصول رہنما ہونا چاہیے کہ "فلسطین پر حکومت فلسطینیوں کی ہو” اور ان کی خواہشات کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ دو ریاستی حل کے حصول کے لیے کوششیں تیز کی جائیں، یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کی جائے اور فلسطینی ریاست کے قیام اور اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے حصول میں مدد فراہم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ چین فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کی بحالی کی منصفانہ جدوجہد کی ہمیشہ حمایت کرتا آیا ہے اور مسئلۂ فلسطین کے جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔








