اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود حکومت نے معاشی استحکام برقرار رکھا، اب اگلا مرحلہ سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار میں اضافہ ہے، 2018 سے 2022 کے دوران سیاسی عدم استحکام نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا مگر موجودہ حکومت پالیسیوں کے تسلسل اور معاشی بحالی کو ترجیح دے رہی …
آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود حکومت نے معاشی استحکام برقرار رکھا، وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود حکومت نے معاشی استحکام برقرار رکھا، اب اگلا مرحلہ سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار میں اضافہ ہے، 2018 سے 2022 کے دوران سیاسی عدم استحکام نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا مگر موجودہ حکومت پالیسیوں کے تسلسل اور معاشی بحالی کو ترجیح دے رہی ہے۔منگل کو لیبر فورس سروے 2024–25 کی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سروے کا بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل ہونا پاکستان کے اعدادوشمار کے نظام کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ لیبر فورس سروے 19ویں ICLS کے عالمی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے، نئے عالمی طریقہ کار کے تحت 2.5 ملین ذاتی ضرورت کے کسانوں کو لیبر فورس کے شمار سے نکال دیا گیا ہے جس سے اعداد و شمار زیادہ درست اور عالمی معیار کے مطابق ہو گئے ہیں۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) نے لیبر فورس سروے 2024-25 (ایل ایف ایس)جاری کر دیا ہے جو ملک میں محنت بازار کے اعدادوشمار کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ سروے 19ویں انٹرنیشنل کانفرنس آف لیبر اسٹیٹسٹیشنز (ICLS) کے تازہ ترین عالمی معیارات کے مطابق مکمل کیا گیا ہے، جس سے پاکستان عالمی شماریاتی اصولوں سے مکمل ہم آہنگی کی جانب گامزن ہے۔
اجرا ءکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا کہ LFS 2024-25 کے نتائج پیش کرنا خوشی کی بات ہے جو پالیسی سازوں، محققین اور ترقیاتی شراکت داروں کے لئے نہایت اہم محنت بازار کا تجزیہ فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ سروے گزشتہ تمام راؤنڈز سے بنیادی طور پر مختلف ہے کیونکہ اس میں 19ویں ICLS کے فریم ورک کو مکمل طور پر شامل کیا گیا ہے،جو عالمی سطح پر آئی ایل او کا معیارات مقرر کرنے والا فورم ہے۔ 193 ممالک میں سے 120 یہ معیار اپنا چکے ہیں اور پاکستان بھی اب مضبوطی سے اسی سمت بڑھ رہا ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان 2020-21 تک 13ویں ICLS فریم ورک استعمال کر رہا تھا۔
2024-25 سے پاکستان 19ویں ICLS معیار پر منتقل ہو رہا ہےجس میں روزگار کی زیادہ واضح تعریف متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت فقط گھریلو استعمال کے لئے کاشت کرنے والے کسانوں کو ’روزگار یافتہ‘ نہیں گنا جائے گا۔ اس نئے معیار کے تحت 25 لاکھ ایسے کسانوں کو روزگار سے خارج کیا گیا ہے۔ یوں 2024-25 میں لیبر فورس 83.1 ملین رہی، جو پرانے معیار کے مطابق 85.6 ملین بنتی۔محنت بازار میں مثبت رجحانات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ 2020-21 میں 55.1 فیصد غیر فعال ورکنگ ایج آبادی کا تناسب کم ہو کر 2024-25 میں 52.4 فیصد رہ گیا ہے جو بہتر اقتصادی ماحول کا اظہار ہے۔
لیبر فورس میں شرکت 44.9 فیصد سے بڑھ کر 46.3 فیصد ہو گئی ہے، اگرچہ 25 لاکھ کسان خارج کر دیئے گئے ہیں، اگر انہیں شامل کیا جائے تو شرکت کی شرح 47.7 فیصد تک پہنچتی جو مستقبل کے مواقع پر مضبوط اعتماد کا اظہار ہے۔بے روزگاری کے حوالے سے وفاقی وزیر نے بتایا کہ بے روزگاری کی شرح 2020-21 میں 6.3 فیصد سے بڑھ کر ICLS-13 کے مطابق 6.9 فیصد اور ICLS-19 کے مطابق 7.1 فیصد رہی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2013 سے 2018 کے دوران بہتر معاشی نظم و ضبط کے باعث بے روزگاری 6 فیصد سے گھٹ کر 5.8 فیصد تک آئی تھی، مگر 2018 میں یہ دوبارہ 6.9 فیصد تک بڑھ گئی۔
انہوں نے کہا کہ روزگار کا رجحان زرعی شعبے سے خدمات کے شعبے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 2021 میں زرعی روزگار کا حصہ 37.4 فیصد تھا جو 2024 میں کم ہو کر 33.1 فیصد رہ گیا جبکہ خدمات کا شعبہ 37.2 فیصد سے بڑھ کر 41.2 فیصد ہو گیا۔ وفاقی وزیر نے اجرتوں میں نمایاں اضافہ بھی اجاگر کیا۔ اوسط ماہانہ اجرت 24 ہزار روپے سے بڑھ کر 39 ہزار روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح مرد و خواتین کی اجرت کا فرق بھی کم ہوا ہےجو 2020-21 میں 4,500 روپے ماہانہ تھا، وہ 2024-25 میں 2,000 روپے سے بھی کم رہ گیا۔ یہ پیش رفت خواتین کی محنت بازار میں بہتر کارکردگی کو ظاہر کرتی ہے اور ورلڈ اکنامک فورم کے جینڈر پیرٹی انڈیکس میں مثبت اثر ڈالے گی۔
سروے کے مطابق ملک میں کاروبار کے رجحانات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ’اون اکاؤنٹ ورکرز‘ کا حصہ 35.5 فیصد سے بڑھ کر 36.1 فیصد ہو گیا، جس میں خواتین کا کردار نمایاں ہے۔ خواتین کی کاروباری سرگرمیوں میں حصہ داری 2020-21 میں 19 فیصد تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 25.2 فیصد ہو گئی ۔یعنی 6.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ۔ اسی طرح کنٹریبیوٹنگ فیملی ورکرز، (عارضی یا غیر معاوضہ کارکن) کا حصہ 21.1 فیصد سے کم ہو کر 19 فیصد رہ گیا، جو خواتین کی باضابطہ اور معاوضہ شدہ روزگار کی طرف پیش قدمی کو ظاہر کرتا ہے۔
ملک کی تاریخ میں پہلی بار LFS میں گیگ اکانومی کے اعدادوشمار فراہم کیے گئے ہیں۔ بنیادی نوکریوں میں 2.9 فیصد افراد گیگ بیسڈ کام کر رہے ہیں جبکہ ثانوی نوکریوں میں ان کا حصہ 10.6 فیصد ہے۔ ثانوی کاموں میں خواتین کا کردار زیادہ نمایاں ہے،15 فیصد خواتین گیگ ورک پر انحصار کرتی ہیں جبکہ مردوں میں یہ شرح 9.8 فیصد ہے۔سروے نے غیر اداشدہ گھریلو و نگہداشت کی سرگرمیوں کا بوجھ بھی نمایاں کیا ہے۔ 2024 میں 179.6 ملین ورکنگ ایج آبادی میں سے 117.4 ملین افراد گھریلو و نگہداشت کے غیر معاوضہ کاموں میں مصروف ہیں۔
92 ملین مردوں میں سے 50.7 ملین (55٪) اور 87.6 ملین خواتین میں سے 66.7 ملین (76٪) اس قسم کی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ “یہ اعداد و شمار خواتین پر غیر معاوضہ کام کے زیادہ بوجھ کو واضح کرتے ہیں۔پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ IMF پروگرام کے تحت ساختی اصلاحات نے طلب میں کمی اور ترقی کی رفتار کو متاثر کیا۔ “ان چیلنجز کے باوجود حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
اگلا مرحلہ سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، برآمدات اور باوقار روزگار کے مواقع بڑھا کر پائیدار اور جامع ترقی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔تقریب کے اختتام پر پی بی ایس نے پاکستان کے 13ویں سے 19ویں ICLS فریم ورک کی جانب منتقلی کا تفصیلی پس منظر بھی پیش کیا۔ LFS 2020-21 کو 13ویں معیار کے مطابق تیار کیا گیا تھا، جس میں گھریلو استعمال کے لیے کاشت کرنے والے کسانوں کو بھی روزگار میں شامل کیا جاتا تھا جبکہ LFS 2024-25 کو جدید 19ویں معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس میں اپنی پیداوار استعمال کرنے والے افراد کو روزگار کے اعدادوشمار سے خارج کر دیا گیا ہے۔ شفافیت اور سروے راؤنڈز کے مابین موازنہ ممکن بنانے کے لیے PBS نے تمام کلیدی اشارے دونوں معیارات کے تحت جاری کر دیئے ہیں۔








