وفاقی آئینی عدالت میں بل بورڈز کی تنصیب سے متعلق کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں بل بورڈز لگانے کی اجازت سے متعلق کیس کی سماعت بدھ کو ہوئی۔سماعت کے دوران عدالت نے پارکس اینڈ ہینڈی کرافٹ اتھارٹی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بل بورڈز شہریوں کی جان و مال کے لیے شدید خطرہ بنتے ہیں اور فیس کی مد میں رقم کمانے کے لیے عوام کی زندگیوں سے نہیں کھیلا جا …

اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں بل بورڈز لگانے کی اجازت سے متعلق کیس کی سماعت بدھ کو ہوئی۔سماعت کے دوران عدالت نے پارکس اینڈ ہینڈی کرافٹ اتھارٹی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بل بورڈز شہریوں کی جان و مال کے لیے شدید خطرہ بنتے ہیں اور فیس کی مد میں رقم کمانے کے لیے عوام کی زندگیوں سے نہیں کھیلا جا سکتا۔سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ بل بورڈ بڑے خطرناک ہوتے ہیں اور آندھی طوفان میں یہ گر جاتے ہیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا اتھارٹی بل بورڈ لگانے سے پہلے سائٹ کا تعمیراتی معیار جانچتی ہے؟ اور اگر نقصان ہو جائے تو کیا اتھارٹی اس کی ذمے داری لے گی؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے پارکس اتھارٹی سے سوال کیا کہ کیا وہ فیس کیلئے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں؟عدالت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی بل بورڈز پر پابندی کا فیصلہ دے چکی ہے، اور اس فیصلے سے ہٹ کر کوئی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے بل بورڈ لگانے کے میکانزم پر بھی سوالات اٹھا دیے۔پارکس اینڈ ہینڈی کرافٹ اتھارٹی کے وکیل نے عدالتی فیصلوں کے جائزے کے لیے مہلت مانگی جس پر عدالت نے وقت دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر اپیل واپس لینے کی بات کی جائے، اور اگر بل بورڈ کی اجازت پر بات کی گئی تو اپیل جرمانے کے ساتھ مسترد کر دی جائے گی۔بعد ازاں آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔