پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں 20 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ، بی ڈی یو کی رپورٹ

پشاور۔ 26 نومبر (اے پی پی):فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر 24 نومبر کو ہونے والے دہشتگرد حملے سے متعلق بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں حملے کی منصوبہ بندی، استعمال ہونے والے بارودی مواد اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کے بارے میں اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔بی ڈی یو رپورٹ کے مطابق حملے میں 20 کلوگرام بارودی مواد استعمال …

پشاور۔ 26 نومبر (اے پی پی):فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر 24 نومبر کو ہونے والے دہشتگرد حملے سے متعلق بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں حملے کی منصوبہ بندی، استعمال ہونے والے بارودی مواد اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کے بارے میں اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔بی ڈی یو رپورٹ کے مطابق حملے میں 20 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، جو تین خودکش جیکٹس میں نصب تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیکٹس میں بارودی مواد کو زیادہ تباہی پیدا کرنے کے لیے آگے اور پیچھے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق خودکش جیکٹس کے ٹکڑوں سے واضح ہوتا ہے کہ دھماکے کا اثر 30 میٹر تک نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

بی ڈی یو کا کہنا ہے کہ حملہ مکمل طور پر خودکش نوعیت کا تھا اور ریموٹ کنٹرول کا کوئی سراغ نہیں ملا۔بی ڈی یو ٹیم نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کیے، جن میں آٹھ دستی بموں کے ٹکڑے، 2 ملی میٹر سائز کے بال بیرنگ، دو فٹ لمبا پرائما کارڈ اور درمیان سے کٹی ہوئی 2 فٹ تارشامل ہیں۔ یہ تمام شواہد لیبارٹری تجزیہ کے لیے جمع کروا دیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خودکش جیکٹس انتہائی مہارت سے تیار کی گئیں، جن کا مقصد زیادہ سے زیادہ جانی و مالی نقصان پہنچانا تھا۔ تاہم سکیورٹی فورسز کی بروقت جوابی کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو رکنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بی ڈی یو رپورٹ کے مطابق حملے میں ایف سی کے 3 جوان شہید ہوئے جبکہ پانچ جوان اور 8 شہری زخمی ہوئےحکام کا کہنا ہے کہ حملہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور دہشتگردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانے کے لیے بھاری بارود اور جدید خودکش جیکٹس استعمال کیں۔واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ سکیورٹی ادارے حملے کے ماسٹر مائنڈ اور سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے سرگرم ہیں۔