حکومت نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم کے مواقع فراہم کر رہی ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کا قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں طلباء وطالبات کے اجتماع سے خطاب

گلگت ۔26نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم کے مواقع فراہم کر رہی ہے،تعلیم کا مقصد محض روزگار کا حصول نہیں بلکہ اعلیٰ کردار کا حامل انسان بننا بھی ہے کیونکہ محنت، لگن اور خدمتِ خلق ہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہیں۔ وہ بدھ کو قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں طلباء …

گلگت ۔26نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم کے مواقع فراہم کر رہی ہے،تعلیم کا مقصد محض روزگار کا حصول نہیں بلکہ اعلیٰ کردار کا حامل انسان بننا بھی ہے کیونکہ محنت، لگن اور خدمتِ خلق ہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہیں۔ وہ بدھ کو قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں طلباء وطالبات کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔احسن اقبال نے کہا کہ پیسہ زندگی کا واحد مقصد نہیں، بغیر وسائل کے بھی انسان محنت اور عزم کے ساتھ اپنی منزل حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل جدوجہد نے پیسہ کی طاقت کے بغیر تعلیم کے ذریعہ انہیں چھ مرتبہ قومی اسمبلی کا رکن اور چار مرتبہ وزیرِ منصوبہ بندی بننے کا موقع دیا،یوں ہر نوجوان بھی اپنے خواب حقیقت میں ڈھال سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ معاشرے میں نفرت اور تعصب خطرناک وائرس ہیں جو انسان کی عقل کو ماؤف کر دیتے ہیں ،انہیں قومی و اجتماعی سوچ سے دور رکھنا لاذمی ہے، اختلافِ رائے فطری ہے مگر اسے اس حد تک نہیں جانا چاہئے کہ کسی کو نقصان پہنچے، ہمیں برداشت، مکالمہ اور باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ ہم ایک قوم ہیں۔وفاقی وزیر نے گلگت بلتستان کے آئینی و مالی حقوق پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ وزارت منصوبہ بندی و ترقی نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لئے این ایف سی میں ان کا جائز حصہ دینے کی سفارش کی ہے، مسلم لیگ (ن )اس مقصد کے لئے آئین میں ترمیم کی حامی ہے، ہم دیگر صوبوں کو بھی قائل کریں گے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ وژن 2025 کے تحت ملک بھر کی طرح گلگت بلتستان میں بھی یونیورسٹیاں اور اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کئے گئے تاکہ دور افتادہ علاقوں کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کی سہولت دہلیز پر مل سکے، ہم قراقرم یونیورسٹی کے تینوں کیمپس کے لئے ایچ ای سی کے ذریعے فنڈز فراہم کریں گے تاکہ خطے کی تقدیر تعلیم کے ذریعے بدل سکے، تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو غربت کا خاتمہ کرتی ہے۔

تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے طلباء و طالبات کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں آنے والی حکومت نے سی پیک کو ریورس گیر لگا دیا جس سے ترقی کا عمل رک گیا اور کئی منصوبے سردخالوں میں چلے گئے اور ا ن کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوا، ان منصوبوں کی تکمیل کے لئے فنڈ جاری کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بجلی بحران پر قابو پانے کے لئے متعدد منصوبے شروع کئے گئے ہیں جن کی تکمیل سے توانائی بحران کا خاتمہ ہوگا، ہماری حکومت کی اولین ترجیح یہی ہے اور اگلے دو سال میں نمایاں بہتری نظر آئے گی۔انہوں نے کہا کہ خطے کے وسائل کے درست استعمال سے حقیقی ترقی ممکن ہے، وزیر اعظم نے ایک ارب روپے کا انڈومنٹ فنڈ جاری کیا ہے جس سے مستحق طلبہ کی فیسیں ادا کی جا سکیں گی، ہماری معیشت کو جس بحران کی طرف دھکیل دیا گیا اس کا حل اب ہمیں خود نکالنا ہوگا۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہر یونیورسٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نوجوانوں کو محض نوکری تلاش کرنے والا نہیں بلکہ نوکری دینے والا بنائے، ہمیں نوجوانوں میں کاروبار، جدت اور خود اعتمادی کو فروغ دینا ہے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت میں انجینئرنگ فیکلٹی کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا ۔ اس موقع پر گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن اور وائس چانسلر KIU پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ افتتاحی تقریب کے دوران وائس چانسلر نے منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1271 ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا یہ منصوبہ مقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔ انجینئرنگ فیکلٹی میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں جن میں تمام ضروری ساز و سامان نصب کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے فیکلٹی کے مختلف شعبہ جات، کلاس رومز اور لیبارٹریز کا معائنہ بھی کیا اور منصوبے کو اعلیٰ معیار کا قرار دیتے ہوئے KIU انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو معیاری تعلیم و ہنر سے آراستہ کرنا موجودہ حکومت کی ترجیح ہے اور ایسے منصوبے گلگت بلتستان میں ترقی کی راہیں ہموار کریں گے۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے نو تعمیر شدہ کارڈیک ہسپتال گلگت کا دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان و صدر مسلم لیگ (ن) حافظ حفیظ الرحمان بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) نے وفاقی وزیر کو ہسپتال کی تعمیر، سہولیات، نئی مشینری اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کارڈیک ہسپتال گلگت کو مسلم لیگ (ن) کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے گلگت بلتستان کے عوام کے لئے ایک شاندار تحفہ قرار دیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہسپتال کے فعال ہونے سے خطے میں امراضِ قلب کے علاج کی جدید ترین سہولیات دستیاب ہوں گی اور دل کے امراض سے شرح اموات میں واضح کمی آئے گی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری معاشرتی ترقی کا بنیادی ستون ہے، دل کی تکلیف کا مریض جب سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرتا ہے تو یہ اس کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے،یہ ہسپتال اس تکلیف کا خاتمہ کرے گا اور گلگت بلتستان کے لوگوں کو گھر کے قریب عالمی معیار کی صحت سہولیات فراہم کرے گا۔

وفاقی وزیر نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا، مشینری کا جائزہ لیا اور عملے سے گفتگو کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہسپتال کو جلد از جلد مکمل طور پر فعال کرنے کے لئے وسائل، سٹاف اور جدید آلات کی فراہمی کو ترجیح دی جائے تاکہ عوام کو بروقت علاج مل سکے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نےکہا کہ پاکستان کے تمام معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں اور معیشت اب مستحکم انداز میں آگے بڑھ رہی ہے جبکہ پہلے ہم تباہی کے دہانے پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف کو جاتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ترقی کے لیے سیاسی حالات بہتر ہونا ضروری ہیں اور دنیا میں موجود غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ مل کر ہی کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے پاس 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت کی گنجائش موجود ہے، اور اسی تناظر میں کچھ بنیادی شعبوں پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ہر حال میں برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اور ہمیں اپنی ٹیکنالوجیکل صلاحیتوں کو بڑھانا ہوگا تاکہ مستقبل کی ملازمتوں کے لیے تیار رہیں۔ ماحولیاتی بحران کا مقابلہ کیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انرجی اور گرین انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ ضروری ہے، اور صحت و سماجی ترقی کے شعبوں میں بھی خاص توجہ دینی ہوگی۔

اس سے قبل وفاقی وزیر کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری گلگت بلتستان مشتاق احمد نے گلگت بلتستان میں جاری ایس ڈی پی منصوبوں کی تفصیلی بریفنگ دی، جن میں 16 میگاواٹ نلتر، ہینزل پاور پروجیکٹ، 100 میگاواٹ سولر پاور پروجیکٹ، ڈیش اسکول، انجینئرنگ پروجیکٹ گلگت، سکائی پروجیکٹ گلگت، شاہراہ نگر، شاہراہ گلگت چترال پروجیکٹ، اپ گریڈیشن آف ایف پی ایچ کیو ہسپتال گلگت، اور اپ ڈیٹ آف میڈیکل کالج گلگت شامل ہیں۔وفاقی وزیر نے ان منصوبوں پر کام مزید تیز کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے گلگت بلتستان میں ترقی کے نئے راستے کھلیں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ان منصوبوں میں اگر کوئی رکاوٹ آئے گی تو وفاقی حکومت اسے دور کرے گی۔