اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں کے فروغ کیلئے 381 ملین ڈالر مالیت کے تین منصوبوں کی منظوری دے دی ہے،ان ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے میں معاشی ترقی کو تیز کرنا ہے، جو ملک کی آبادی اور معاشی سرگرمیوں کا نصف سے زیادہ حصہ رکھتا ہے۔ہفتہ کو یہاں موصول ہونے والے پریس ریلیز …
اے ڈی بی نے پنجاب میں زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں کے فروغ کیلئے 381 ملین ڈالر مالیت کے تین منصوبوں کی منظوری دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں کے فروغ کیلئے 381 ملین ڈالر مالیت کے تین منصوبوں کی منظوری دے دی ہے،ان ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے میں معاشی ترقی کو تیز کرنا ہے، جو ملک کی آبادی اور معاشی سرگرمیوں کا نصف سے زیادہ حصہ رکھتا ہے۔ہفتہ کو یہاں موصول ہونے والے پریس ریلیز کے مطابق اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ایما فین نے کہا کہ تعلیم، صحت اور زرعی مشینری میں سرمایہ کاری پنجاب کی ترقی کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرے گی، جو پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری زراعت کو جدید بنائے گی، انسانی وسائل کو بہتر بنائے گی اور پنجاب بھر میں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں نمایاں بہتری لائے گی۔پنجاب کلائمیٹ ریزیلینٹ اینڈ لو کاربن ایگریکلچر میکنائزیشن پراجیکٹ کے لیے 120 ملین ڈالر کا رعایتی قرضہ اور 4 ملین ڈالر کا گرانٹ مختص کیا گیا ہے تاکہ صوبے کو جدید، قدرتی آفات سے محفوظ اور کم کاربن اخراج والی زراعت کی طرف منتقلی میں تیزی دی جائے۔ اس سے 2 لاکھ 20 ہزار دیہی کسان خاندان مستفید ہوں گے۔
یہ پراجیکٹ کاشتکاری کو جدید بنانے میں مدد دے گا اور کاشتکاروں کے لئے متبادل روزگار کے مواقع فراہم کرے گا، جس میں 15,000 خواتین کی مہارتوں اور علم میں اضافہ بھی شامل ہے۔ یہ چھوٹے کسانوں کو جدید مشینری فراہم کرنے کے لیے فارم میکنائزیشن سروس فراہم کرنے والوں کے لیے ایک نیا فنانسنگ ماڈل متعارف کرائے گا۔پنجاب ملک کا 75فیصد گندم، 69فیصد چاول اور 91فیصد مکئی پیدا کرتا ہے۔ صوبہ پرانی مشینری پر انحصار کی وجہ سے بھاری اناج کے نقصانات اور فصل کے باقیات جلانے کے رجحان کی وجہ سے شدید چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جو ہوا کے آلودگی اور صحت کے سنگین خطرات کا باعث بنتا ہے۔
ان مسائل کے حل کے لیے پراجیکٹ جدید زرعی مشینری کو فروغ دے گا۔اے ڈی بی نے پنجاب میں "ریسپانسیو، ریڈی اینڈ ریزیلینٹ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ میتھمیٹکس سیکنڈری ایجوکیشن پروگرام” کے لیے 107 ملین ڈالر کی بھی منظوری دی ہے، جس میں ایشین ڈیویلپمنٹ فنڈ سے 7 ملین ڈالر گرانٹ اور عام رعایتی وسائل سے 100 ملین ڈالر قرضہ شامل ہے۔یہ نتائج پر مبنی پروگرام پنجاب بھر میں جامع اور معیاری تعلیم کو بہتر بنا کر ثانوی تعلیم کو جدید بنانے کا ہدف رکھتا ہے۔
پنجاب سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی نگرانی میں چلنے والا یہ پراجیکٹ صوبے بھر کے طلبہ کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی بہتر بنائے گا۔ اے ڈی بی نے پنجاب نرسنگ اینڈ ہیلتھ ورک فورس ریفارم پروگرام کے لیے 150 ملین ڈالر کا رعایتی قرضہ منظور کیا ہے تاکہ نرسنگ کی تعلیم کو بہتر بنایا جائے، قدرتی آفات سے محفوظ تربیتی سہولیات تیار کی جائیں اور صحت کے شعبے کی افرادی قوت کے گورننس کو مضبوط کیا جائے۔پاکستان میں کوالیفائیڈ نرسوں کی شدید کمی ہے جبکہ عالمی سطح پر تربیت یافتہ نرسوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔
نرسنگ سیکٹر کی جدید کاری سے قومی اور بین الاقوامی ضروریات پوری ہوں گی۔ یہ نتائج پر مبنی پروگرام نرسنگ نصاب کو اپ گریڈ کرنے، فیکلٹی ڈیویلپمنٹ پروگرامز کو وسعت دینے اور ڈیجیٹل ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم نافذ کرنے پر توجہ دے گا تاکہ افرادی قوت کی منصوبہ بندی کو صحت کی خدمات کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
زیادہ تر خواتین پر مشتمل کوالیفائیڈ نرسوں کی تعداد بڑھا کر صوبے بھر میں صحت کی خدمات کی فراہمی بہتر ہوگی۔نرسنگ پروگرام کے اہم اجزاء میں لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں تین سینٹرز آف ایکسیلنس کا قیام شامل ہے۔ ان سینٹرز میں جدید ترین سمیلیشن لیبارٹریز، ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز اور صنف دوست ہاسٹلز ہوں گے، جو پنجاب کی بڑھتی ہوئی مقامی ضروریات اور بیرون ملک روزگار کے مواقع پورے کرنے کے قابل ہنرمند صحت افرادی قوت کی مانگ پوری کریں گے۔








