اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری بل 2025 اور انکم ٹیکس آرڈیننس (تیسری ترمیم) بل،2025کوقومی اسمبلی سے منظورکرانے کی سفارش کی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا 21واں اجلاس منگل کویہاں پارلیمنٹ ہائوس میں چیئرمین کمیٹی سید نویدقمرکی صدارت میں منعقدہوا۔اجلاس میں ڈاکٹرنفیسہ شاہ کی جانب سے پیش کردہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری …
قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کااجلاس، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری بل 2025 اور انکم ٹیکس آرڈیننس (تیسری ترمیم) بل،2025کوقومی اسمبلی سے منظورکرانے کی سفارش

مزید خبریں
اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری بل 2025 اور انکم ٹیکس آرڈیننس (تیسری ترمیم) بل،2025کوقومی اسمبلی سے منظورکرانے کی سفارش کی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا 21واں اجلاس منگل کویہاں پارلیمنٹ ہائوس میں چیئرمین کمیٹی سید نویدقمرکی صدارت میں منعقدہوا۔اجلاس میں ڈاکٹرنفیسہ شاہ کی جانب سے پیش کردہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری بل 2025 پر غورہوا اورکمیٹی نے بل کی قومی اسمبلی سے منظوری کی سفارش کی۔ اجلاس میں انکم ٹیکس آرڈیننس (تیسری ترمیم) بل 2025 کا جائزہ لیا اور قومی اسمبلی سے بل کی منظوری کی سفارش کی۔ اجلاس میں نیٹنگ آف فنانشل اریجمنٹ بل 2025کا جائزہ لیاگیا۔
کمیٹی نے بل کوآئندہ آئندہ اجلاس تک موخر کردیا۔ اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی چیئرمین اور فیڈرل بورڈ آف ریو نیو کے چیئرمین نے بیرون ممالک سے آنے والے پاکستانیوں کے ذریعے پاکستان لائے جا نے والے موبائل فو نز پر نافذ ٹیکس کے نظام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سید علی قاسم گیلا نی اوراراکین کمیٹی نے موبائل فو نز خصوصاً وہ فونز جوبیرون ممالک سے آنیوالے پاکستانی اپنے ہمراہ لاتے ہیں ، پر عائد بھاری ٹیکسوں پرتنقید کی۔ اجلاس میں بتایاگیا کہ درآمد شدہ موبائل ڈیوائسز پر حد سے زیادہ ٹیکس سے نہ صرف بیرون ملک پاکستانیوں بلکہ لاکھوں مقامی صارفین کے لیے بھی شدید مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سیدنویدقمرنے کہاکہ موبائل فونز پر عائدٹیکسز غیرمنطقی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موبائل فو نز کو اب لگژری اشیاء کے طور پرنہیں دیکھا جا سکتا اور نہ ہی انہیں زیادہ قیمت والی درآمدی اشیاء مثلاً لگژری گاڑیوں کے برابر سمجھا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ موبائل فونز اب ایک روزمرہ کی ضرورت بن چکے ہیں جو عام شہری کے لیے روزمرہ زندگی، رابطے، تعلیم، مالی لین دین اور سرکاری خدمات تک رسائی کے لیے لازمی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بنیادی ضرورت کی ایسی چیز پر ضرورت سے زیادہ ٹیکس لگانے سے عام آدمی پرغیرضروری بوجھ پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ٹیکسیشن کا مقصد ریو نیو اکٹھا کرتے ہوئے درآمد ات کو منظم کرنا ہے تاہم اس کاڈھانچہ شفاف، عملی اور زمینی حقائق کے مطابق ہونا چاہئے ۔
اس سلسلے میں انہوں نے ایف بی آرا ور ٹیکس پالیسی آفس کو پرسنل بیگیج اور رجسٹریش نظام کے تحت موبائل فونزکی درآمدات پرنافذ موجودہ ٹیکس ریٹس کا ازسرِنوجائزہ لینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ایف بی آر اورپی ٹی اے کو موجودہ ٹیکس فریم ورک کا مشترکہ ازسرنو جائزہ لینے اور شواہد پر مبنی سفارشات تیار کرنے اور پالیسی آپشنز، معاشی اثرات، بی الاقوامی تقابلی جائزے اور تجویز کردہ ترامیم پر مشتمل تفصیلی رپورٹ مارچ 2026ء تک تیار کرکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے منٹس کی متفقہ طورپرمنظوری بھی دی گئی۔








