اسلام آباد ۔ 27 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ عالمی حدت کے باعث پاکستان کے شمال میں واقع گلیشئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے برفانی چیتے کی بقا اور اس کے مسکن کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں، عالمی حدت اور اس کے منفی اثرات سے برفانی چیتے اور اس کے مسکن کو بچانے کے لیے …
وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان کا بشکیک میں برفانی چیتے بارے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ عالمی حدت کے باعث پاکستان کے شمال میں واقع گلیشئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے برفانی چیتے کی بقا اور اس کے مسکن کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں، عالمی حدت اور اس کے منفی اثرات سے برفانی چیتے اور اس کے مسکن کو بچانے کے لیے ملک کر کام کریں۔ انہوں نے یہ بات کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں برفانی چیتے بارے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ پاکستان میں برفانی تیندوے اور اس کے مسکن کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی ادارے گلوب انوائرونمنٹ فیسلیٹی کے تعاون سے 450 ملین روپے کی لاگت سے طویل مدتی پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں برفانی چیتے کے تحفظ کی کوششوں کا سلسلہ 1970ءکی ابتداءسے ہی جاری ہے جب حکومت نے صوبائی محکمہ ہائے جنگلی حیات کے قانون کی توثیق کی تھی اور ان کوششوں میں اس وقت مزید تیزی آ گئی جب 1990ء میں پاکستان میں سنو لیپرڈ ٹرسٹ کا آغاز ہوا اور برفانی چیتے کے تحفظ کے سٹریٹجک پلان کی 2007ء میں حکومت کی جانب سے منظوری دی گئی، جو برفانی چیتے کی نسل کے تحفظ کی حکمت عملی کے تحت دی گئی۔ سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ اس وقت سے لے کر اب تک جنگلی حیات کے تحفظ کے کئی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اس حکمت عملی پر عمل درآمد شروع کر چکے۔








