اسلام آباد ۔ 27 اگست (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ فنون انسان کی ضرورت ہے، جس معاشرے میں فنون باقی نہ رہے وہ معاشرہ پر تشددہو جائے گا ، اس معاشرے سے برداشت، تدبر اور نرمی ختم ہو جاتی ہے، ہر مثبت جذبات کی نشوونما فنون ہی کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار …
وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی کی پی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 اگست (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ فنون انسان کی ضرورت ہے، جس معاشرے میں فنون باقی نہ رہے وہ معاشرہ پر تشددہو جائے گا ، اس معاشرے سے برداشت، تدبر اور نرمی ختم ہو جاتی ہے، ہر مثبت جذبات کی نشوونما فنون ہی کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ا نہوں نے کہا کہ فنون ایسے ہوتے ہیں جن میں بڑی رعنائی، توانائی اور قوت ہوتی ہے، جو زمانے کے نشیب و فراز کے ساتھ آگے بڑھتے رہتے ہیں اور اپنے نئے راستے بھی تراشتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے ادوار میں بھی 26 کے لگ بھگ فنون خطاط تھے جو اپنی محنت سے اسلامی علم کے فروغ کا ذریعہ تھے مگر اس دور میں ان ہستیوں کے پاس موجودہ دور جیسی سہولیات نہ تھیں۔ اس دور میں درختوں کے چھالوں ، چمڑے اور دیگر اشیاءپر خطاطی کی جاتی تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فنون کے پیرہن اور اظہار کا طریقہ بھی بدلتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پیشے تو شاید مر جاتے ہیں لیکن فنون نہیں مرتا، مصوری نہیں مرتی۔ وہ مختلف روپ میں زندہ رہتے ہیں۔ ایک فن پارے کی تیاری میںو قت تو لگتا ہے مگر جب وہ تیار ہو جاتا ہے تو اس کو دیکھ کرذہن کو سکون اور آسودگی ملتی ہے۔








