لاہور۔10دسمبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کچھ سیاسی قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے اداروں کو نشانہ بنا رہی ہیں جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ وہ بدھ کے روز باغبانپورہ میں پارٹی کی سینئر کارکن زبیدہ جعفری مرحومہ کے گھراہل خانہ سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں کارکنوں کے درمیان آ کر …
پابندی نہیں چاہتے، سیاسی جماعتوں کو بھی سیاسی رویہ اختیار کرنا ہوگا،بلاول بھٹو زرداری

مزید خبریں
لاہور۔10دسمبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کچھ سیاسی قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے اداروں کو نشانہ بنا رہی ہیں جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ وہ بدھ کے روز باغبانپورہ میں پارٹی کی سینئر کارکن زبیدہ جعفری مرحومہ کے گھراہل خانہ سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں کارکنوں کے درمیان آ کر خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ بلاول بھٹو زرداری نے مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے 6 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے اور دنیا کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی آزادی اور سرحدوں کے تحفظ میں کسی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے خطرات اب بھی موجود ہیں جبکہ افغانستان کی طرف سے دہشت گردی کے خدشات حقیقت بن رہے ہیں۔ دہشت گرد افغانستان سے پاکستان آتے ہیں، کارروائیاں کرتے اور واپس چلے جاتے ہیں، جو پاکستان کے لیے سنگین سکیورٹی چیلنج ہے، تاہم پاکستان کی بہادر افواج ان خطرات کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک کے اندرونی چیلنجز سے بھی نمٹا جا رہا ہے اور ایسے وقت میں ہر محب وطن کی ذمہ داری ہے کہ ملک اور پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہو۔انہوں نے کہاکہ افسوس ہے کہ کچھ سیاسی قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے اداروں کو نشانہ بنا رہی ہیں، ایسے رویے کا مقصد اداروں کو کمزور کرنا ہے، جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت سیاسی دجال کا کردار ادا کرتے ہوئے عوام اور افواج کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اگر کوئی سیاسی جماعت انتہا پسند تنظیم کا کردار ادا کرے گی تو سوالات اٹھیں گے ، پی ٹی آئی کے رویے ایسے ہیں کہ ان پر پابندی لگ سکتی ہے، کوئی ان لوگوں کو جا کر بتائے کہ سیاست کریں، انتہا پسندی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت دہشت گردوں کا ساتھ دے گی تو گورنر راج لگنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، تاہم میں نے کے پی کے گورنر کا اس حوالے سے بیان نہیں دیکھا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کوئی بھی سندھ میں آ کر الیکشن لڑے تو ہمیں خوشی ہو گی، جب بھی انتخابات ہوں، پہلے اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں چاہتے، لیکن سیاسی جماعتوں کو بھی سیاسی رویہ اختیار کرنا ہوگا۔







