لاہور۔11دسمبر (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے 2025 میں عدالتی ڈھانچے، مقدمات کے نظم و ضبط، ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت کے حوالے سے نمایاں انقلابی اقدامات کیے جس سے عدالتی رفتار تیز ہوئی بلکہ زیر التوا مقدمات کے بوجھ میں بھی قابلِ ذکر کمی واقع ہوئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں عدالتی اصلاحات کے حوالے سے اپریل2025 میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے کیس …
لاہور ہائیکورٹ کے 2025 میں عدالتی ڈھانچے، مقدمات کے نظم و ضبط، ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت کے حوالے سے انقلابی اقدامات ، کام کی رفتار تیز اور زیر التوا مقدمات میں کمی ہوئی

مزید خبریں
لاہور۔11دسمبر (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے 2025 میں عدالتی ڈھانچے، مقدمات کے نظم و ضبط، ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت کے حوالے سے نمایاں انقلابی اقدامات کیے جس سے عدالتی رفتار تیز ہوئی بلکہ زیر التوا مقدمات کے بوجھ میں بھی قابلِ ذکر کمی واقع ہوئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں عدالتی اصلاحات کے حوالے سے اپریل2025 میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے کیس مینجمنٹ سسٹم کو پولیس سٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم پراسیکیوشن کیس فلو مینجمنٹ اور جیل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ساتھ مربوط کیا،کیسوں کی سماعتوں کی خودکار شیڈولنگ کی گئی جس کے نتیجے میں فریقین کو ایس ایم ایس اور ای میل کی وصولی ممکن بنائی گئی ،دفتری دستاویزات کی ڈیجیٹل مینجمنٹ کے تحت فیصلوں اور کیس سٹیٹس کی فوری دستیابی ممکن بنائی گئی۔
نومبر میں عدالت نے تمام عدالتی ریکارڈز کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی ہدایت جاری کی تاکہ پولیس، پراسیکیوشن، جیل اور عدالتوں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ مرکزی نظام کے تحت یکجا ہو سکے اس دوران عدالتی عملے کے لئے عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت کے اطلاق پر اہم تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا ۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کی رہنمائی میں2025 میں متعدد اصلاحات نافذ کی گئیں،اہم اصلاحات میں مقدمات کی شفاف رجسٹریشن کے لیے نئی انفارمیشن شیٹ کا نفاذ شامل تھا،اس اقدام کا مقصد جعلی مقدمات، غیر شفاف اندراج اور دوبارہ فائلنگ کے مسائل کا خاتمہ تھا جس سے عدالت کے انتظامی عمل میں نمایاں بہتری آئی۔
2025 میں لاہور ہائیکورٹ نے ڈیجیٹلائزیشن کی سمت عملی پیش رفت کرتے ہوئے عدالت کی کارروائیوں، کاز لسٹ، کیس سٹیٹس اور بینچ تشکیل کے حوالے سے تازہ ترین معلومات فراہم کرنے کے لیے اپنی سمارٹ فون ایپ متعارف کرائی، اس کے ذریعے وکلا، شہری اور مقدمات کے فریقین عدالت کی کارروائیوں تک براہِ راست رسائی حاصل کرنے لگے جس سے شفافیت میں اضافہ ہوا اور عوامی سہولت میں بہتری آئی، عوامی مفاد اور انصاف تک آسان رسائی کے لیے عدالت نے سرٹیفائیڈ فیصلوں اور دفتری نقول کی فیس میں نمایاں کمی کی۔
ضلعی عدلیہ میں مقدمات کی وصولی اور جانچ کے لیے نئے ایس او پیزجاری کیے گئے جن کے تحت مقدماتی اندراج کی ہر سطح پر سائلین کی درست اور مکمل شناخت لازمی قرار دی گئی، اس نظام کے نفاذ سے مقدمات کے اندراج میں بے ضابطگیوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔ رواں سال کے آخرمیں 63425 مقدمات نمٹانے کا تاریخی سنگِ میل عبور کیا جس کے نتیجے میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں تقریبا بارہ فیصد کمی واقع ہوئی۔







