بھارت میں ہندوتوا انتہاپسندی عروج پر، مسلمانوں کیلئے مذہبی شناخت برقرار رکھنا چیلنج بن گیا

اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):بھارت میں ہندوتوا نظریات کے زیر اثر بی جے پی اور آر ایس ایس کی بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے باعث مسلمانوں کیلئے مذہبی آزادی اور شناخت شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔ مختلف بھارتی رہنماؤں اور انتہا پسند تنظیموں کے حالیہ بیانات نے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے لیے صورتحال مزید سنگین بنا دی ہے۔ بھارتی جریدے ’’دی ہندو‘‘کے مطابق ویسٹ بنگال کے علاقے مرشد آباد …

اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):بھارت میں ہندوتوا نظریات کے زیر اثر بی جے پی اور آر ایس ایس کی بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے باعث مسلمانوں کیلئے مذہبی آزادی اور شناخت شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔ مختلف بھارتی رہنماؤں اور انتہا پسند تنظیموں کے حالیہ بیانات نے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے لیے صورتحال مزید سنگین بنا دی ہے۔ بھارتی جریدے ’’دی ہندو‘‘کے مطابق ویسٹ بنگال کے علاقے مرشد آباد میں ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے بابری مسجد کے نام سے ایک نئی مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے، جس کے بعد ریاست میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دوسری جانب "دی ٹائمز آف انڈیا”کے مطابق بی جے پی نے مغربی بنگال میں بابری مسجد جیسے نام اور ماڈل پر مسجد کی تعمیر کی کھل کر مخالفت شروع کر دی ہے۔ بی جے پی لیڈر رامیشور شرما نے مسلمانوں کو سخت دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان بابری مسجد کی بنیاد کھودیں تو وہ ان ہی کی قبریں بنانے کیلئے استعمال ہوں گی۔انہوں نے واضح اعلان کیا کہ ویسٹ بنگال میں بابری مسجد ہرگز تعمیر نہیں ہونے دی جائے گی۔ انتہا پسند ہندو تنظیم اتسو سمیتی کے صدر چندر شیکھر تیواری نے بھی مسلمانوں کے مذہبی حق پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بابر کے نام سے منسوب کسی مسجد کو برداشت نہیں کریں گے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق چند تنظیمیں بابری مسجد کی طرز پر تعمیراتی منصوبے کیلئے کروڑوں روپے کے عطیات جمع کر چکی ہیں، جس سے دونوں برادریوں کے درمیان مزید کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بی جے پی رہنماؤں کے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات نہ صرف بھارتی آئین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ملک کے سیکولر تشخص کے لیے بھی شدید دھچکا ہیں۔ دوسری جانب بھارتی مسلمانوں نے مودی حکومت کی سخت پالیسیوں کے باوجود اپنے بنیادی حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔