اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):ازبکستان کی نیشنل لائبریری کے ’’سینٹر فار انلائٹنمنٹ‘‘ میں ایک اہم ادبی و سفارتی تقریب منعقد ہوئی جس میں معروف پاکستانی مصنف محمد عباس خان کی تصنیف “Uzbekistan: The Third Renaissance – The Concept of the Future” کی رونمائی کی گئی۔ وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق تقریب کی نظامت سینیٹر عزیزمت زیو، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف ہسٹری، اکیڈمی آف سائنسز آف ازبکستان نے کی۔ اس …
تاشقند میں تاریخی کتاب کی تقریبِ رونمائی ،پاکستان اور ازبکستان کی برادرانہ دوستی کا مضبوط اظہار

مزید خبریں
اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):ازبکستان کی نیشنل لائبریری کے ’’سینٹر فار انلائٹنمنٹ‘‘ میں ایک اہم ادبی و سفارتی تقریب منعقد ہوئی جس میں معروف پاکستانی مصنف محمد عباس خان کی تصنیف “Uzbekistan: The Third Renaissance – The Concept of the Future” کی رونمائی کی گئی۔ وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق تقریب کی نظامت سینیٹر عزیزمت زیو، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف ہسٹری، اکیڈمی آف سائنسز آف ازبکستان نے کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے اعلیٰ نمائندگان نے خطاب کیا اور صدر شوکت مرزیایوف کی وژنری قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کی رہنمائی میں نیو ازبکستان کا تصور معیشت، سائنس، جدت اور بین الاقوامی تعلقات کے جامع اصلاحاتی عمل کے ذریعے حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے ٹریڈ اینڈ انڈسٹری رانا احسان افضل خان نے “شوکت مرزیایوف — نیو ازبکستان کے بانی اور بین الاقوامی تعلقات کے معمار” کے عنوان سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مرزیایوف کی قائدانہ بصیرت نے پاک ازبک تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور تاریخی شاہراہِ ریشم کے احیا ءکے تناظر میں اقتصادی تعاون کی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ تقریب کے دیگر معزز مقررین میں صدر ازبکستان کے مشیر خیرالدین سلطانوف، نائب وزیر اعظم زلائخو محکموا، پاکستان کے سفیر فاروق احمد اور دونوں ممالک کے اہم میڈیا نمائندگان شامل تھے۔ مقررین نے ’’تیسری نشاۃِ ثانیہ‘‘ کو ایک دیرپا فکری و تہذیبی تصور قرار دیاجو ازبکستان کی قدیم علمی و تہذیبی میراث کو جدید تعلیم، ٹیکنالوجی، اختراع اور خواتین کے بااختیار بنانے کے نئے دور سے جوڑتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر مصنف محمد عباس خان کو ازبکستان کی رائٹرز یونین کی اعزازی رکنیت دی گئی جو دونوں ممالک کے گہرے ادبی و ثقافتی تعلقات کی علامت ہے۔ یہ تقریب پانچ روزہ سرکاری پاکستانی وفد کے دورہ ازبکستان کا اہم حصہ تھی جس میں بخارا اور سمرقند کے تاریخی و ثقافتی مقامات کے دورے بھی شامل تھے۔ اس موقع نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی۔ ازبکستان کی دنیا انفارمیشن ایجنسی اور برائٹ ازبکستان میگزین کی رپورٹس کے مطابق یہ تاریخی پیشرفت صدر مرزیایوف کے اصلاحاتی وژن کے انسان دوست اور مستقبل بین پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے جو پورے خطے اور عالمی برادری کے لئے ترقی اور استحکام کی نوید ہے۔








