مشرقی یمن کے استحکام کے لئے سعودی کوششیں قابل تعریف ہیں،سربراہ یمنی صدارتی کونسل

صنعا۔12دسمبر (اے پی پی):یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی نے تصادم کو کم کرنے اور حضرموت اور المہرہ گورنریٹسں کے استحکام کی حمایت کے لئے سعودی کوششوں کو سراہا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے دونوں گورنریٹس سے باہر کی تمام بیرونی افواج کے انخلا اور مقامی حکام کو اپنے امور خود چلانے کے لئے بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کسی بھی …

صنعا۔12دسمبر (اے پی پی):یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی نے تصادم کو کم کرنے اور حضرموت اور المہرہ گورنریٹسں کے استحکام کی حمایت کے لئے سعودی کوششوں کو سراہا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے دونوں گورنریٹس سے باہر کی تمام بیرونی افواج کے انخلا اور مقامی حکام کو اپنے امور خود چلانے کے لئے بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کسی بھی اضافی کشیدگی، خونریزی اور اقتصادی و انسانی بحران کو گہرا بڑھانے کے خطرات سے خبردار کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ اولین ترجیح حوثیوں ملیشیائوں کا مقابلہ کرنا اور امن، استحکام اور سلامتی میں یمنی شہریوں کی امنگوں کو حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کے یکطرفہ اقدامات کے دوران ہونے والی انسانی حقوق کی تمام خلاف ورزیوں، جن میں من مانی گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں اور گھروں اور عوامی تنصیبات پر حملے شامل ہیں، کی جامع تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے احتساب اور سزا سے استثنا نہ دینے کے اصول پر بھی زور دیا۔ یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ نے کہا کہ حضرموت اور المہرہ گورنریٹس میں سابقہ حالات کو بحال کرنے، عبوری مرحلے کے حوالہ جات کا احترام کرنے اور حکومت اور مقامی حکام کو اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی کے قابل بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مشکل معاشی حالات اندرونی محاذ آرائی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے دونوں گورنریٹس کے باشندوں اور ان کی سیاسی، قبائلی اور سماجی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں کے حوالے سے اپنے فرائض کی ادائیگی، امن و استحکام کو مضبوط بنانے اور اقتصادی و معاشی حالات پر سکیورٹی اور فوجی کشیدگی کے اثرات کو کم کرنے کے لئے ریاستی اور مقامی حکام کی کوششوں کی حمایت کریں۔انہوں نے کہا کہ اس کشیدگی کے پہلے اشارے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کی طرف سے ملک میں اپنی اہم سرگرمیاں معطل کرنے کی صورت میں سامنے آئے تھے۔ یمنی صدر نے دونوں گورنریٹس کے باشندوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مفاد کو ترجیح دیں اور گزشتہ تمام سالوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ضائع نہ کریں اور حوثی ملیشیا اور اس کے ساتھ تعاون کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ پر توجہ مرکوز کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ علاقائی اور بین الاقوامی برادری اور سب سے بڑھ کر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد اور موجودہ قومی اتفاق رائے کے اہم سرپرست خلیج تعاون کونسل کے ساتھ اعتماد کو مضبوط بنایا جائے۔ ملک کے مشرق میں حضرموت، شبوہ اور المہرہ گورنریٹس میں قانونی حیثیت اور ریاستی اداروں کے دائرہ کار سے باہر نئی حقیقتیں مسلط کرنے کی جنوبی عبوری کونسل کی کوششوں کے بعد سعودی عرب نے امن کو فروغ دینے اور تنازع کو روکنے کی حمایت کی ہے۔ اس کی تصدیق حضرموت میں سعودی وفد کے سربراہ میجر جنرل محمد القحطانی نے کی ہے جنہیں بحران شروع ہوتے ہی سعودی عرب نے یمن بھیجا تھا۔