لاہور۔12دسمبر (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے لاہور کے تاریخی ناصر باغ پارکنگ پلازہ، پارکس میں تجاوزات اور ٹریٹمنٹ پلانٹس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناصر باغ پارکنگ پلازہ پراجیکٹ عدالت میں چیلنج نہیں ہوا، تاہم اس کی نوعیت اور مقام کے حوالے سے تشویش موجود ہے۔ عدالت نے ڈی جی ایل ڈی …
سموگ وماحولیاتی آلودگی تدارک کیس،ایل ڈی اے، پی ایچ اے ومحکمہ ماحولیات کو ہدایات پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم،سماعت ملتوی

مزید خبریں
لاہور۔12دسمبر (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے لاہور کے تاریخی ناصر باغ پارکنگ پلازہ، پارکس میں تجاوزات اور ٹریٹمنٹ پلانٹس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناصر باغ پارکنگ پلازہ پراجیکٹ عدالت میں چیلنج نہیں ہوا، تاہم اس کی نوعیت اور مقام کے حوالے سے تشویش موجود ہے۔ عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے پرجوڈیشل کمیشن کے ممبر سے ملاقات کریں۔
عدالت نے حکم دیا کہ تمام شوگر ملز ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب کریں، ایل ڈی اے، پی ایچ اے ومحکمہ ماحولیات کو ہدایات پر عملدرآمد اور پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزیدسماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک کیس میں ہارون فاروق ، اظہر صدیق سمیت دیگر کی ایک ہی نوعیت کی درخواستوں پر سماعت کی جس میں ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے تدارک کیلئے اقدامات نہ کرنے کی نشاندہی کی گئی ۔دوران سماعت متعلقہ محکموں کے اعلی حکام پیش ہوئے اور اپنی اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کیں۔ دوران سماعت ماہر تعمیرات رضا علی دادا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پارکنگ پلازہ کا یہ پراجیکٹ ناصر باغ کی جگہ کے لیے موزوں نہیں، جس پر عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے کو منگل تک رضا دادا سے میٹنگ کرنے اور اگلی سماعت پر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔
عدالت نے خبردار کیا کہ اگر تحفظات دور نہ ہوئے تو وہ ناصر باغ پراجیکٹ روکنے پر مجبور ہو گی۔ ممبر ماحولیاتی کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ ماحولیات نے رولز میں ترمیم کر دی ہے جس کے تحت ناصر باغ سمیت کچھ ترقیاتی منصوبوں کو این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی ۔عدالت نے شہر کے پارکس سے متعلق رپورٹس پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ درخت اور ہریالی کا خاتمہ کسی صورت درست نہیں۔ عدالت نے باور کرایا کہ پی ایچ اے کسی این جی او کو شامل کرکے غیرقانونی طور پر درختوں کی ٹرانسپلانٹیشن نہیں کر سکتی۔پی ایچ اے کے وکیل نے بتایا کہ لاہور میں 804 چھوٹے بڑے پارکس موجود ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ جو پارک خراب حالت میں ہیں انہیں بحال کیا جائے اور جہاں تجاوزات ہیں انہیں فوری ختم کیا جائے تاکہ شہری خصوصا بچے پارکس سے استفادہ کر سکیں۔
دوران سماعت ایک وکیل نے نشاندہی کی کہ غالب مارکیٹ پارک میں تجاوزات تاحال موجود اور گلبرگ تھری پارک میں درخت کاٹے گئے ہیں۔ عدالت نے گلبرگ تھری کے پارک میں ایل ڈی اے اور پی ایچ اے کو فوری طور پر کام سے روک دیا اور آئندہ سماعت پر جامع رپورٹ طلب کر لی۔عدالت نے ہدایت کی کہ ڈی جی پی ایچ اے پارکس کے حوالے سے ماہرین سے مشاورت کریں اور شہروں کے بیچ میں کھیل اور تفریح کی سہولتیں بڑھانے کے لیے پارکس میں پیڈل کورٹس بنانے پر بھی غور کیا جائے۔ عدالت نے مزید سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی۔ عدالت عالیہ کے روبرو درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود سموگ کے تدارک کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے سموگ بڑھ رہی ہے جو انسانی صحت کے لیے انتہا ئی خطرناک ہے۔ عدالت سموگ کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا حکم دے ۔








