برلن ۔12دسمبر (اے پی پی):روس آئندہ پانچ سالوں میں نیٹو کے رکن کسی ملک پر حملہ کر سکتا ہے۔ یہ انتباہ مغربی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کے سربراہ مارک روٹے جرمنی میں ایک اجلا س سے خطاب میں کیا۔ بی بی سی کے مطابق مارک روٹے نے کہا کہ روس پہلے ہی ہمارے خلاف اپنی خفیہ مہم بڑھا رہا ہے اور ہمیں اس جنگ کے لیے تیار رہنا ہوگا …
روس آئندہ پانچ سالوں میں نیٹو کے رکن کسی ملک پر حملہ کر سکتا ہے، مارک روٹے

مزید خبریں
برلن ۔12دسمبر (اے پی پی):روس آئندہ پانچ سالوں میں نیٹو کے رکن کسی ملک پر حملہ کر سکتا ہے۔ یہ انتباہ مغربی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کے سربراہ مارک روٹے جرمنی میں ایک اجلا س سے خطاب میں کیا۔ بی بی سی کے مطابق مارک روٹے نے کہا کہ روس پہلے ہی ہمارے خلاف اپنی خفیہ مہم بڑھا رہا ہے اور ہمیں اس جنگ کے لیے تیار رہنا ہوگا جس کا ہمارے اباؤ اجداد نے سامنا کیا تھا ۔
انہوں نے مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے روس کے ارادوں کے بارے میں بھی اسی طرح کے بیانات کی تائید کی ۔ نیٹو سربراہ کا یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس اور یوکرین کے درمیان فروری 2002 سے جاری جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔رواں ماہ کے آغاز میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک یورپ کے ساتھ جنگ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن اگر یورپ چاہے یا جنگ شروع کرے تو وہ بھی اس کے لئے تیار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق روس نے 2022 میں ایسی ہی یقین دہانیوں کے باوجود یوکرین پر حملہ کر دیا تھا۔دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق روس میں جنگی سازوسامان کی تیاری بہت تیز رفتاری سے جاری ہے اور یورپی ممالک کو جنگی سازو سامان کی تیاری میں یہ رفتار حاصل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق سائبر حملے، غلط معلومات اور نیٹو ممالک کے ہوائی اڈوں اور فوجی اڈوں کے قریب مبینہ ڈرونز حملوں جیسے واقعات میں اس سال شدت آئی ہے لیکن نیٹو کے کسی رکن ملک پر روسی فوجی حملے سے پیدا ہونے والا بحران ان کے مقابلہ میں کہیں زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔مارک روٹے نے کہا کہ اس ساری صورتحال کے باعث نیٹو کے رکن ممالک کو اپنے دفاعی اخراجات اور پیداوار کو تیزی سے بڑھانا چاہیے، ہماری مسلح افواج کے پاس وہ سب کچھ ہونا چاہیے جو ہمیں محفوظ رکھنے کے لیے درکار ہے۔








