اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):پاکستان اور برطانیہ کے درمیان آٹھ سال بعد ترقیاتی مذاکرات کا نیا دور اسلام آباد میں شروع ہوگیا جس میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیات اور سماجی شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اعلیٰ سطح مذاکرات میں اہم اقتصادی اور ترقیاتی امور پر پیش رفت سامنے آئی جو پاکستان کی معاشی بحالی اور عالمی اعتماد کے فروغ کی علامت قرار دی جا …
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ترقیاتی مذاکرات کا نیا دور، تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیات اور سماجی شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):پاکستان اور برطانیہ کے درمیان آٹھ سال بعد ترقیاتی مذاکرات کا نیا دور اسلام آباد میں شروع ہوگیا جس میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیات اور سماجی شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اعلیٰ سطح مذاکرات میں اہم اقتصادی اور ترقیاتی امور پر پیش رفت سامنے آئی جو پاکستان کی معاشی بحالی اور عالمی اعتماد کے فروغ کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔
مذاکرات کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور برطانوی وزیر برائے ترقیاتی امور بیرونیس چیپ مین کے درمیان تفصیلی ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنمائوں نے ایس آئی ایف سی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس فورم کے ذریعے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان معاشی تعاون میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان میں 200 سے زائد برطانوی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جس سے دو طرفہ تجارت کا حجم 5.5 بلین پائونڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ عالمی سطح پر پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔ مذاکرات کے دوران صحت، تعلیم، آبادی اور ماحولیاتی استحکام کے شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ ماحولیات اور قدرتی وسائل کے موثر استعمال کے لیے ’’گرین کومپیکٹ پروگرام‘‘ کا باضابطہ آغاز کیا گیا جو گرین ٹیکنالوجیز میں تعاون کو مزید وسعت دے گا۔ بیرونیس چیپ مین اور وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے ’’پاک-یو کے ایجوکیشن گیٹ وے‘‘ کے اگلے مرحلے کا افتتاح بھی کیا جس کے تحت سٹارٹ اپ فنڈز، آن لائن لرننگ پروگرامز اور تعلیمی مواقع میں اضافہ شامل ہے۔
اس اقدام سے دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔ماہرین کے مطابق اہم ترقیاتی پیش رفت نہ صرف پاکستان کی معیشت میں استحکام لائے گی بلکہ بیرونی سرمایہ کاری کے نئے راستے بھی کھولے گی جس سے مستقبل میں پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔








