اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):1971 ء کی پاک بھارت جنگ میں شریک بریگیڈیئر (ر)محمد سرفراز نے اپنے عینی مشاہدات، حالات اور محاذ پر پیش آنے والے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی 1971 ء میں مشرقی پاکستان میں حالات بگڑنے کے بعد فوج نے نومبر تک دفاعی پوزیشنز سنبھال لی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ 22 نومبر 1971 ء کو بھارت نے مشرقی پاکستان کے مختلف سیکٹرز …
جولائی 1971 ء میں مشرقی پاکستان میں حالات بگڑنے کے بعد فوج نے نومبر تک دفاعی پوزیشنز سنبھال لی تھیں ، بریگیڈیئر (ر) محمد سرفراز

مزید خبریں
اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):1971 ء کی پاک بھارت جنگ میں شریک بریگیڈیئر (ر)محمد سرفراز نے اپنے عینی مشاہدات، حالات اور محاذ پر پیش آنے والے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی 1971 ء میں مشرقی پاکستان میں حالات بگڑنے کے بعد فوج نے نومبر تک دفاعی پوزیشنز سنبھال لی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ 22 نومبر 1971 ء کو بھارت نے مشرقی پاکستان کے مختلف سیکٹرز پر باقاعدہ حملہ کر دیا جس کے بعد مزاحمت میں شدت آ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 4 دسمبر کو ہیڈکوارٹر کی جانب سے "منور کمپلیکس” فتح کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس مقام پر دشمن کے تین بڑے ٹینک اور مسلسل فائرنگ کرنے والی مشین گنز تعینات تھیں جبکہ بھارتی آرٹلری بلا وقفہ گولہ باری میں مصروف تھی۔
بریگیڈیئر (ر)محمد سرفراز نے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی کے دوران کمانڈنگ آفیسر تقریباً 200 گز کے فاصلے پر تھے کہ سر اور سینے پر گولیاں لگنے سے شہید ہو گئے، اس معرکہ میں 12 پاکستانی فوجی شہید اور 35 سے زائد زخمی ہوئے۔ مشکل صورتحال کے باوجود بریگیڈیئر محمد سرفراز نے بتایا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سب سے پہلے مائن فیلڈ میں داخل ہوئے، اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے پاکستانی فوجیوں نے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کیا اور بھارتی فورسز منور کمپلیکس میں اپنے ٹینک اور مشین گنز چھوڑ کر فرار ہو گئیں۔
بریگیڈیئر (ر)محمد سرفراز کے مطابق پاکستانی فوج نے دریائے توی کے قریب فوجی کمپنیاں تعینات کیں اور جمریال پوسٹ پر بھی دشمن نے بھاری اسلحہ چھوڑ کر پسپائی اختیار کی۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 30 سے 40 ہزار میٹر رقبہ پاک فوج کے کنٹرول میں آ گیا جو ان کے بقول آج بھی محفوظ ہے۔انہوں نے کہا کہ 1971 ء کے شہداء قوم کے عظیم اثاثے ہیں جنہوں نے وطن اور ایمان کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں نچھاور کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران بھارتی سرپرستی میں سرگرم مکتی باہنی کی پرتشدد کارروائیوں نے مشرقی پاکستان میں انسانی جانوں کا بے دریغ نقصان کیا جسے تاریخ کا سیاہ باب قرار دیا جاتا ہے۔ بریگیڈیئر (ر)محمد سرفراز کا کہنا تھا کہ جنگ میں پاکستانی فوج پر لگائے گئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات من گھڑت اور یکطرفہ بیانیہ تھے جنہیں پھیلانے کے لئے اس وقت غلط پروپیگنڈا کیا گیا۔








