اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں زیتون کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں اور زیتون کی کاشت ایک تجربہ نہیں رہی بلکہ اب مکمل طور پر ایک ابھرتی ہوئی صنعت کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔وفاقی وزیر نے جمعہ کو یہاں ساتویں نیشنل زیتون فیسٹیول/اولیو گالا کا افتتاح کیا اور اسے پاکستان کے لیے …
پاکستان میں زیتون کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں،اس کی کاشت اب مکمل طور پر ابھرتی ہوئی صنعت کا درجہ حاصل کر چکی ہے، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں زیتون کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں اور زیتون کی کاشت ایک تجربہ نہیں رہی بلکہ اب مکمل طور پر ایک ابھرتی ہوئی صنعت کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔وفاقی وزیر نے جمعہ کو یہاں ساتویں نیشنل زیتون فیسٹیول/اولیو گالا کا افتتاح کیا اور اسے پاکستان کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا موسم اعلیٰ معیار کے زیتون کی کاشت کے لیے نہایت موزوں ہے اور زیتون موسمیاتی تبدیلی کے حل کے طور پر بھی نہایت موثر فصل ہے جو پانی کی کمی والے علاقوں کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زیتون کے شعبے سے ہزاروں کسانوں کو منافع بخش اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ روزگار میسر آ رہا ہے جبکہ یہ شعبہ دیہی معیشت کو نئے کاروبار اور روزگار کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ زیتون کی کاشت اور اس کی پروسیسنگ کے شعبے میں پاکستان خطے کا نمایاں مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں زیتون کے تیل سمیت دیگر مصنوعات کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے جبکہ زیتون کے تیل کی کچھ مقدار پاکستان سے ایکسپورٹ بھی کی جا رہی ہے جس میں امریکہ میں سلور میڈل جیتنے والی پاکستانی زیتون آئل بھی شامل ہے۔
رانا تنویر حسین نے بتایا کہ دنیا میں زیتون کا شمار بڑی زرعی صنعتوں میں ہوتا ہے جس کی مثال سپین کی 11 ارب ڈالر اور اٹلی کی بھاری ایکسپورٹس ہیں، اس کے مقابلے میں پاکستان کی مجموعی زرعی ایکسپورٹ 9 ارب ڈالر ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان کو 4 ارب ڈالر سالانہ کا پام آئل درآمد کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیتون کی مقامی پیداوار بڑھا کر پاکستان نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرسکتا ہے بلکہ آئندہ برسوں میں ایکسپورٹ کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت معیاری پودوں کی فراہمی، تحقیق، جدید آئل ایکسٹریکشن سہولیات اور ویلیو چین کی بہتری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، زیتون کی پیکنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کو عالمی معیار کے مطابق لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے زیتون کے فروغ کے لیے اٹلی کی حکومت کی معاونت کو سراہا اور بتایا کہ اٹلی نہ صرف تکنیکی مدد فراہم کر رہا ہے بلکہ 20 ملین یورو کا منصوبہ بھی پاکستان کے لیے منظور کر چکا ہے۔ انہوں نے مزید خوشخبری دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان آئندہ دو سے تین ماہ میں انٹرنیشنل اولیو کونسل کا ممبر بن جائے گا جس سے پاکستان کے زیتون شعبے کی عالمی سطح پر پذیرائی بڑھے گی۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ کسان ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور حکومت انہیں ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ زیتون پاکستان کی اہم سٹریٹجک فصل بن چکی ہے اور پاکستان کا ’’اولیو ہب‘‘ بننے کا سفر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ زیتون کی کاشت اور ویلیو چین میں نوجوانوں اور خواتین کے لیے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے جبکہ ملکی سطح پر خوردنی تیل کی درآمدات میں اربوں روپے کی بچت ممکن ہو سکے گی۔








