کلی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھنا اور اسے سرمایہ کاری و برآمدات پرمبنی نمو میں تبدیل کرنا ناگزیر ہے،وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک پاکستان کے وفد سے گفتگو

اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کلی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھنا اور اسے سرمایہ کاری و برآمدات پرمبنی نمو میں تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے یہ بات جمعہ کویہاں سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک پاکستان کے بورڈ کے وفد سے ملاقات میں کہی۔ وفد کی قیادت بورڈ کے چیئرمین اورسینئرایگزیکٹو آفیسر کرسٹوفر پارسنز کر رہے تھے۔ وفد میں بینک کے …

اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کلی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھنا اور اسے سرمایہ کاری و برآمدات پرمبنی نمو میں تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے یہ بات جمعہ کویہاں سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک پاکستان کے بورڈ کے وفد سے ملاقات میں کہی۔ وفد کی قیادت بورڈ کے چیئرمین اورسینئرایگزیکٹو آفیسر کرسٹوفر پارسنز کر رہے تھے۔ وفد میں بینک کے بورڈ اور مینجمنٹ کے سینئر ارکان بھی شامل تھے۔ وفد نے وفاقی وزیرکو بتایا کہ بورڈ طویل عرصے بعد اسلام آباد میں اجلاس منعقد کر رہا ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور مارکیٹ کے شرکا کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں سے حاصل ہونے والا مثبت فیڈبیک شیئر کیا جس میں پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال کی تعریف کی گئی۔ وزیر خزانہ نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے لیے بالخصوص بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ توسیعی فنڈسہولت کیلئے مذاکرات ونفاذ کے دوران سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی مسلسل حمایت کوسراہا۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ بینک کے تعاون نے مارکیٹ کے اعتماد کو مضبوط کرنے اور بیرونی مالی معاونت میں مدد دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے وفد کو حکومت کی اصلاحاتی ترجیحات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کلی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھنا اور اسے سرمایہ کاری و برآمدات پرمبنی نمو میں تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔ ملاقات میں تعاون کے اہم شعبوں جن میں نجکاری، غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی شامل ہیں، پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے نجکاری کے عمل کو تیز کرنے اوراعلیٰ معیار کے سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے مضبوط سیل سائیڈ مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے سرمایہ کاری کے ذرائع کے تنوع کے لیے کیپٹل مارکیٹ کے آلات کے استعمال کی حکومتی کوششوں کا بھی ذکر کیا جن میں ممکنہ پانڈا بانڈ کے اجراء پر پیش رفت اور پاکستان کے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کو بہتر کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ وفد نے بتایا کہ پاکستان سٹینڈرڈ چارٹرڈ کی ترجیحی مارکیٹ ہے اور بینک حکومت کے ایجنڈے کی حمایت کے لیے مشاورتی خدمات، سینیڈیکیشن اور پاکستان کو بالخصوص خلیج تعاون کونسل ویگر بین الاقوامی مارکیٹوں کے سرمایہ کار حلقوں سے جوڑنے کے لیے تیار ہے۔

بڑے منصوبوں اور تیز رفتار ترقی کی صلاحیت رکھنے والے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے معاونت کی خواہش کا بھی اظہار کیا گیا۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت سرمایہ کاری کی راہ میں حائل اہم رکاوٹوں خصوصاً ٹیکسیشن اور توانائی کے شعبے کے مسائل کو دور کر رہی ہے، اقتصادی پالیسی سازی کو مضبوط بنانے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

ملاقات میں فریقین نے پاکستان کے اصلاحاتی تسلسل کو برقرار رکھنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے قریبی رابطہ جاری رکھنے پراتفاق کیا۔

مزید خبریں