پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر،سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے تحفظ میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے ناگزیر کردار کی توثیق

اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر،سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے تحفظ میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے ناگزیر کردار کی توثیق کی ہے۔ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی UNRWA بین الاقوامی برادری کی جانب سے سونپے گئے منفرد مینڈیٹ کے تحت اپنے تمام آپریشنل …

اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر،سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے تحفظ میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے ناگزیر کردار کی توثیق کی ہے۔

دہائیوں سے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی UNRWA بین الاقوامی برادری کی جانب سے سونپے گئے منفرد مینڈیٹ کے تحت اپنے تمام آپریشنل علاقوں میں لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کو تحفظ، تعلیم، صحت کی سہولیات، سماجی خدمات اور ہنگامی امداد فراہم کرتی آ رہی ہے، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 302 (1949ء) کے مطابق ہے۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی UNRWA کے مینڈیٹ میں مزید تین سال کی توسیع کا فیصلہ ایجنسی کے اہم کردار اور اس کے آپریشنز کے تسلسل پر بین الاقوامی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔وزرائے خارجہ نے مشرقی یروشلم کے شیخ جراح محلے میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے ہیڈکوارٹرز پر اسرائیلی افواج کے دھاوے کی مذمت کی، کیونکہ یہ حملہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے دفاتر کی حرمت کی صریح خلاف ورزی ہے، جو ایک ناقابل قبول اشتعال انگیزی ہے۔

یہ اقدام 22 اکتوبر 2025ء کی بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے کے بھی منافی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ایک قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے آپریشنز میں رکاوٹ نہ ڈالے بلکہ ان کی سہولت کاری کرے۔غزہ کی پٹی میں بے مثال انسانی بحران کے پیش نظر، وزرائے خارجہ نے اس اہم کردار پر زور دیا جو اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی اپنے وسیع ڈسٹری بیوشن مراکز کے ذریعے انسانی امداد کی ترسیل میں ادا کر رہی ہے

، تاکہ خوراک، امدادی سامان اور بنیادی ضروریات منصفانہ اور مؤثر انداز میں ضرورت مندوں تک پہنچ سکیں، جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے مطابق ہے۔ غزہ میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے اسکول اور صحت کے مراکز پناہ گزین کمیونٹیز کے لیے زندگی کی علامت بنے ہوئے ہیں اور نہایت مشکل حالات میں تعلیم اور بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں، جو زمینی سطح پر پائیداری کو مضبوط کرنے اور فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین پر رہنے اور اپنے وطن کی تعمیر نو کی صلاحیت فراہم کرنے میں مددگار ہے۔

وزرائے خارجہ نے اس امر پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کا کردار ناقابلِ بدل ہے کوئی اور ادارہ وہ ڈھانچہ، مہارت اور زمینی موجودگی نہیں رکھتا جو فلسطینی پناہ گزینوں کی ضروریات پوری کرنے اور مطلوبہ پیمانے پر خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے درکار ہے۔ ایجنسی کی صلاحیت میں کسی بھی قسم کی کمزوری پورے خطے میں سنگین انسانی، سماجی اور سیاسی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

اسی تناظر میں، وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے لیے پائیدار اور کافی مالی معاونت یقینی بنائے اور ایجنسی کو اپنے پانچوں آپریشنل میدانوں میں کام جاری رکھنے کے لیے ضروری سیاسی اور عملی سپیس فراہم کرے۔ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کی معاونت خطے کے استحکام، انسانی وقار کے تحفظ اور فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کے دفاع کی بنیاد ہےجب تک ان کے مسئلہ کا ایک منصفانہ اور دیرپا حل بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں، بشمول قرارداد 194، کے مطابق نہیں نکل آتا۔

مزید خبریں