یورپی یونین کی روسی مرکزی بینک کے اثاثے روس منتقل کرنے پر پابندی

برسلز ۔13دسمبر (اے پی پی):یورپی یونین نے یوکرین جنگ کے تناظر میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے روسی مرکزی بینک کے منجمد اثاثے واپس روس منتقل کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔شنہوا کے مطابق یورپی یونین کی کونسل نےاعلان کیا کہ رکن ممالک کے اندر موجود روسی مرکزی بینک کے اثاثوں یا ذخائر کی کسی بھی قسم کی براہِ راست یا بالواسطہ منتقلی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ …

برسلز ۔13دسمبر (اے پی پی):یورپی یونین نے یوکرین جنگ کے تناظر میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے روسی مرکزی بینک کے منجمد اثاثے واپس روس منتقل کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔شنہوا کے مطابق یورپی یونین کی کونسل نےاعلان کیا کہ رکن ممالک کے اندر موجود روسی مرکزی بینک کے اثاثوں یا ذخائر کی کسی بھی قسم کی براہِ راست یا بالواسطہ منتقلی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ فوری بنیادوں پر یورپی معیشت کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔فیصلے کے تحت ان تمام اداروں، کمپنیوں یا قانونی شخصیات پر بھی پابندی عائد ہوگی جو روسی مرکزی بینک کی جانب سے یا اس کی ہدایت پر کام کر رہی ہوں۔

یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اکتوبر میں ہونے والے یورپی کونسل اجلاس میں روسی اثاثے منجمد رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا، اور اب اس وعدے کو عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے۔یورپی یونین کے مطابق یہ اقدام عارضی ہے، تاہم جب تک روس کو مالی یا دیگر وسائل فراہم کرنا یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے لیے سنگین معاشی مسائل کا سبب بن سکتا ہے، یہ پابندی برقرار رہے گی۔

اس فیصلے کے نتیجے میں تقریباً 210 ارب یورو مالیت کے روسی اثاثے منجمد رہیں گے، جن میں سے تقریباً 190 ارب یورو بیلجیم میں قائم مالیاتی ادارے یوروکلیئر کے پاس محفوظ ہیں۔ یہ اثاثے 2022 میں روس-یوکرین تنازع شروع ہونے کے بعد عائد کی گئی یورپی پابندیوں کے تحت منجمد کیے گئے تھے، جن کی تجدید ہر چھ ماہ بعد تمام 27 رکن ممالک کی متفقہ منظوری سے ہوتی ہے۔اگرچہ ہنگری اور سلوواکیہ یوکرین کے لیے حمایت بڑھانے کی مخالفت کرتے رہے ہیں، تاہم تازہ فیصلے کے بعد وہ پابندیوں کی توسیع کو روکنے کے قابل نہیں رہیں گے۔