لاہور۔13دسمبر (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کہاہے کہ کاشتکار ٹنل ٹیکنالوجی کے تحت لگائی گئی سبزیوں کی بہتر دیکھ بھال سے بھرپور پیداوار حاصل کرسکتے ہیں۔ترجمان کے مطابق ٹنل کے اندر لگائی گئی سبزیوں کی آبپاشی اور کھاد کا استعمال بروقت کریں، اگر ممکن ہو تو بذریعہ ڈرپ اریگیشن کریں۔ سپرے کرنے اور کھاد ڈالنے کے بعد ٹنل کا منہ بند نہ کریں تاکہ ٹنل کے اندرگیس پیدا ہو …
کاشتکار ٹنل ٹیکنالوجی کے تحت لگائی گئی سبزیوں کی بہتر دیکھ بھال سے بھرپور پیداوار حاصل کرسکتے ہیں،محکمہ زراعت پنجاب

مزید خبریں
لاہور۔13دسمبر (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کہاہے کہ کاشتکار ٹنل ٹیکنالوجی کے تحت لگائی گئی سبزیوں کی بہتر دیکھ بھال سے بھرپور پیداوار حاصل کرسکتے ہیں۔ترجمان کے مطابق ٹنل کے اندر لگائی گئی سبزیوں کی آبپاشی اور کھاد کا استعمال بروقت کریں، اگر ممکن ہو تو بذریعہ ڈرپ اریگیشن کریں۔ سپرے کرنے اور کھاد ڈالنے کے بعد ٹنل کا منہ بند نہ کریں تاکہ ٹنل کے اندرگیس پیدا ہو کر نقصان نہ پہنچائے۔
دن کے وقت تقریبا صبح10 تاشام4 بجے تک ٹنل کے منہ کو دونوں طرف سے کھلا رکھیں تاکہ ٹنل کے اندر زیادہ نمی پیدا نہ ہو جو کہ بیماریوں کا موجب بنتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو ٹنل میں ہوا خارج کرنے والا پنکھا لگا دیں تاکہ بے جا نمی کو خارج کیا جائے اور درجہ حرارت مناسب رکھا جاسکے۔ کوشش کریں کہ ٹنل میں درجہ حرارت 15 سے 30درجہ سینٹی گریڈ کے درمیان رہے۔
پلاسٹک ٹنل میں کاشتہ سبزیاں بھی زیادہ سردی اور کورے سے متاثر ہو سکتی ہیں، اس لئے کورے والی راتوں میں ٹنل کا منہ اندر سے بند کریں تاکہ اندر کا درجہ حرارت سبزیوں کی نشوونما کے لئے موزوں رہے اور دن میں 10بجے ٹنل کا منہ کھولیں تاکہ اندر کا درجہ حرارت بڑھنے نہ پائے ۔اسی طرح شام کو 4بجے ٹنل کا منہ بند کر دیں تاکہ فصل سردی/ کورے سے متاثر نہ ہو۔
ترجمان نے بتایا کہ بیلوں والی سبزیوں میں نر اور مادہ پھول الگ الگ ہوتے ہیں ،اس لیے اس میں اخلاط نسل خود بخود نہیں ہوتا لہذا کاشتکاریہ کام ہاتھ سے کریں اور ٹنل کے پلاسٹک اتارنے تک اس عمل کو جاری رکھیں کیونکہ پلاسٹک اتارنے کے بعد یہ کام مکھیاں سرانجام دیتی ہیں۔ پودوں کی دیکھ بھال کانٹ چھانٹ اور گوڈی وغیرہ کا بھی خاص خیال رکھیں۔ترجمان نے کہا کہ کاشتکار ٹنل ٹیکنالوجی کے تحت اگائی گئی سبزیوں کی دیکھ بھال سے زیادہ منافع کما سکتے ہیں۔








