میثاق پاکستان کی آج پہلے سے زیادہ ضرورت ہے، کسی کو ملک کی امن اور استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،اب سیاسی لانگ مارچ نہیں ، اقتصادی لانگ مارچ ہوگا۔ احسن اقبال

لاہور۔13دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف جدید پاکستان کے معمار ہیں،دنیا میں ہر ملک نے امن، استحکام ،پالیسیوں کے تسلسل اور اصلاحات پر عمل کرتے ہوئے ترقی کی ہے،پاکستان انتشار اور خلفشار کا متحمل نہیں ہے، ہم معاشی تباہی کے دہانے سے واپس آ گئے ہیں، اگر ہم نے دوبارہ انتشار پیدا کیا …

لاہور۔13دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف جدید پاکستان کے معمار ہیں،دنیا میں ہر ملک نے امن، استحکام ،پالیسیوں کے تسلسل اور اصلاحات پر عمل کرتے ہوئے ترقی کی ہے،پاکستان انتشار اور خلفشار کا متحمل نہیں ہے، ہم معاشی تباہی کے دہانے سے واپس آ گئے ہیں، اگر ہم نے دوبارہ انتشار پیدا کیا تو ہم ایک ایسی معاشی دلدل میں پھنس جائیں گے جس سے ہماری معاشی خودمختاری ہمیشہ کے لئے داو پر لگ جائے گی،اگر ہم نے معرکہ حق کے پھل کو کھانا ہے تو ہم نے معرکہ ترقی کیلئے پوری قوم کو ملکر کام کرنا ہے، پاکستان کی عدلیہ،اسٹبلیشمنٹ اور سیاستدانوں نے ایک بات پر اتفاق پیدا کرنا ہے کہ اب کسی کو ملک کے امن اور استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،اب سیاسی لانگ مارچ نہیں پاکستان میں اقتصادی لانگ مارچ ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو پنجاب یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے زیر اہتمام سینئر صحافی محمد نواز رضا کی کتاب’’مرد آہن محمد نواز شریف‘ حکومت، اپوزیشن، جلا وطنی اور جیل کہانی‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر وفاقی وزراء عطا تارڑ، رانا تنویر حسین بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے حاجی نواز رضا کوکتاب لکھنے پر مبارک باد دی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالوں تو میں خود کوحق بجانب سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کا شمار ان چند سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سیاست میں ترقی پر مبنی سیاست کو متعارف کرایا، ملک کی ترقی کے لئے معاشی منصوبے اور ترقی کے وجہ سے لوگ ان کے ساتھ عقیدت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی قابل ذکر ترقی کا منصوبہ ہو یا قابل ذکر اقتصادی پالیسی اس پر نواز شریف کی مہر نظر آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو ایک نئی سمت دینے کوشش کی بلکہ اس خطے میں وہ پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے 1990 میں خطے کے جدید معاشی تقاضوں کو سمجھا اور وہ معاشی اقتصادی اصلاحات متعارف کرائیں جو جنوبی ایشیا کے کسی اور ملک کے وہم گمان میں بھی نہ تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ بھارت نے تقریبااس معاشی اصلاحات اور منصوبہ کو نافذ کیا لیکن پاکستان میں عدم استحکام رہا اور اس اصلاحات کو ترک کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 1990 میں نوازشریف کو ان اصلاحات کے ساتھ اس کی مدت ملتی تو آج ملک بہت آگے نکل چکا ہوتا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ2013 میں جب نوازشریف کو حکومت ملی تو اسوقت 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی کا راج تھا، معیشت زبوں حالی کا شکار تھی لیکن نوازشریف نے ایک دفعہ پھر پاکستان کو پیروں پر کھڑا کیا۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے ملک میں گیارہ ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے لگائے،ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا، سی پیک کا آغاز ہواجس سے ملک میں سرمایہ کاری آئی اور ایک دفعہ پھرپاکستان کا نام ابھرتی معیشت کے طور پر سامنے آیا لیکن پھر2017 میں ایک سازش کے تحت نوازشریف کو نااہل کیا گیا اور ایک اناڑی کو لایا گیا اور ترقی کے اس سفر کا خاتمہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کو جوڑنے کیلئے نوازشریف نے جواقدامات کئے وہ بھی ایک انقلاب سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے سڑکوں اور موٹرویز کے جال سے سفر کا دورانیہ نہ صرف کم ہوا بلکہ سفر کرنا آسان بھی ہوا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نوازشریف پاکستان کا جدید شیرشاہ سوری ہے لیکن اس کے بدلے میں ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ ان کے کردار کو مسخ کرنے کیلئے باقاعدہ مہمات چلائیں، ٹی وی پر مسلسل پروپیگنڈے کئے۔

احسن اقبال نے کہا کہ اس ملک میں سب سے زیادہ احتساب نوازشریف کا ہوا ہے جنہوں نے غلام اسحاق خان، مشرف،عمران خان،جنرل فیض کا احتساب بھگتا لیکن مقدمہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کا بنا لیکن ایک روپیہ کے مالی بد عنوانی کا مقدمہ نہیں بنا۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ نوازشریف جدید پاکستان کے معمار ہے، جن کی پالیسیوں اور منصوبوں نے اس ملک میں جدید معیشت کی بنیادیں رکھی لیکن اس ملک کے اندر جو کھیل کھیلے گئے اور سازشیں کی گئیں اس وجہ سے نوازشریف کے اصلاحات کا اس طرح فائدہ نہ ہوا جس طرح ہونا چاہئے تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے اور بعد میں دیگر جماعتوں نے ان کی تائید کی۔انہوں نے کہا کہ اس میثاق جمہوریت میں لکھا تھا کہ آئینی کورٹ ہونی چاہئے لیکن جب اس کے تحت آئینی عدالت بنتی ہے تو اس پر تنقید کی گئی۔انہوں نے کہا کہ صرف میثاق نہیں ہونا چاہئے اس پر عملدرآمد بھی ہونا چاہئے۔

اس وقت دنیا کی حالات کو مد نظررکھتے ہوئے میثاق جمہوریت کے ساتھ میثاق معیشت کی بھی اہمیت ہے،میثاق معاشرت اور میثاق سیکیورٹی کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جس دشمن کو معرکہ حق میں پاک فوج نے شکست دی ہے اور تاریخ کی سب سے بڑی دفاعی کامیابی حاصل کی ہے اور پوری دنیا میں ہمار سر فخر سے بلند کیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے جواب میں آج دشمن دہشت گردی کے ذریعے ہمیں کمزور کرنا چاہتا ہے لہذا ہمیں ایک میثاق سیکیورٹی کی بھی ضرورت ہے تاکہ ملک کی سیکیورٹی کے حوالے سے جو خطرات اور سازشیں ہیں ان کو ناکام بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں میثاق پاکستان کی ضرورت ہے جس میں میثاق جمہوریت،میثاق معیشت،میثاق معاشرت اورمیثاق سیکیورٹی بھی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آگے لے جانے کے لئے استحکام پیدا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی میڈیا میں جھوٹ بولا جائے تو اس کا کوئی ازالہ نہیں ہے، لندن میں جھوٹی خبر پر معافی مانگی جاتی ہے لیکن یہاں لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے خلاف سی پیک میں 70 ارب کے کرپشن کا الزام لگایا گیا لیکن اس کی کوئی تحقیق نہیں ہوئی۔

 

مزید خبریں