اسلام آباد۔14دسمبر (اے پی پی):کرغزستان کے اعزازی قونصلر مہر کاشف یونس نے کہا ہے کہ کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کا پاکستان کا دورہ دونوں برادر مسلم ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ اتوار کومیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دورے میں دو طرفہ تجارت کے حجم کو 15 ملین ڈالر سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 200 ملین …
کرغزستان کے صدر کا پاکستان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہے، مہر کاشف یونس

مزید خبریں
اسلام آباد۔14دسمبر (اے پی پی):کرغزستان کے اعزازی قونصلر مہر کاشف یونس نے کہا ہے کہ کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کا پاکستان کا دورہ دونوں برادر مسلم ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ اتوار کومیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دورے میں دو طرفہ تجارت کے حجم کو 15 ملین ڈالر سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 200 ملین ڈالر تک لے جانے کی بنیاد رکھی گئی ہے، جو علاقائی روابط، تجارتی شراکت داری اور تزویراتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کی عکاس ہے۔
پاکستان اور کرغزستان نے توانائی، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل تجارت، صنعتی روابط، زراعت اور ڈیجیٹل تبدیلی سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرغز صدر کی پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ملاقاتیں باہمی اعتماد اور علاقائی خوشحالی کے لیے مشترکہ وژن کی نشاندہی کرتی ہیں۔ خاص طور پر دونوں طرف کے تاجروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بہتر ٹرانسپورٹ کوریڈور پر اتفاق خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ کاروباری فورم کے ذریعے بزنس ٹو بزنس تبادلوں، سیاحت اور ثقافتی تعاون کے فروغ، سرمایہ کاری، تعلیم، لاجسٹکس، دو طرفہ تجارت سمیت طویل مدتی تعلقات کو مزید تقویت حاصل ہو گی۔ مہر کاشف یونس جو اسلام آباد میں مشترکہ بزنس فورم کے اجلاسوں کا بھی حصہ تھے، نے کہا کہ دورے کے دوران متنوع شعبوں میں معاہدوں اور 15 ایم او یوز پر دستخط کیے گئے، جو مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعداد کار میں اضافے کے نئے مواقع فراہم کرنے میں معاون ہوں گے۔
کرغرستان کے سفیر کلی بک سلطان نے بھی دورہ میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی اور کرغز صدر کے دورے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جوش و خروش سے دو طرفہ تعلقات مزید متحرک اور پائیدار ہوں گے اور باہمی طور پر مفید شراکت داری پروان چڑھے گی، جس سے وسیع تر علاقائی انضمام اور مشترکہ اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔








