سانحہ اے پی ایس، قومی سوگ جس نے قوم کو دہشتگردی کے خلاف متحد کردیا

پشاور۔ 16 دسمبر (اے پی پی):آج سے 11 سال قبل 16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور پر سفاک دہشتگردوں نے حملہ کرکے معصوم بچوں کو بے دردی سے شہید کر دیا۔یہ دن نہ صرف ان معصوم شہداء کے خاندانوں کےلیے بے پناہ درد اور غم کا باعث بنا بلکہ اس ہولناک واقعے نے ہر پاکستانی کے دل کو زخمی کر دیا۔مسلح دہشت گردوں کے اس حملے …

پشاور۔ 16 دسمبر (اے پی پی):آج سے 11 سال قبل 16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور پر سفاک دہشتگردوں نے حملہ کرکے معصوم بچوں کو بے دردی سے شہید کر دیا۔یہ دن نہ صرف ان معصوم شہداء کے خاندانوں کےلیے بے پناہ درد اور غم کا باعث بنا بلکہ اس ہولناک واقعے نے ہر پاکستانی کے دل کو زخمی کر دیا۔مسلح دہشت گردوں کے اس حملے نے جس میں پرنسپل اے پی ایس سمیت تقریباً 147 طلباء اور اساتذہ شہید اور کئی زخمی ہوئے، پوری قوم کو سوگوار کر دیا تھا۔

ملک کی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر جانے والا 16 دسمبر 2014 شریف گل کے خاندان کےلیے ایک خوفناک دن تھا جن کا بڑا بیٹا حسنین شریف جو اے پی ایس پشاور کا دسویں جماعت کا طالب علم تھا، 132 دیگر طلباء کے ساتھ اس ہولناک حملے میں شہید ہوا. شریف گل نے اے پی پی کو بتایا کہ 11 سال پہلے اس دن میرا بڑا بیٹا حسنین شریف جسے ایس ایس جی کمانڈو کے طور پر پاک فوج میں شامل ہونے کا شدید شوق تھا، صبح سویرے بیدار ہوا، نمازِ فجر ادا کی، روزانہ کے معمول کے مطابق قرآن پاک کی تلاوت کی اور اپنی ماں سے ماتھے پر الوداعی بوسہ لے کر اسکول کے لیے روانہ ہوا۔

انہوں نے کہا حسنین میرا فرمانبردار اور ذہین بیٹا تھا۔اس کی خواہش پوری کرنے کےلیے میں خاندان کے ساتھ پشاور منتقل ہوا اور اسے اے پی ایس میں داخل کرایا جہاں اس نے تعلیم، کھیلوں اور ہم نصابی سرگرمیوں میں شاندار کارکردگی دکھائی۔شریف گل نے بتایا اس وقت میں پشاور میں دفتر کے معمول کے کاموں میں مصروف تھا جب ساتھیوں نے حملے کی اطلاع دی ،میں فوراً ورسک روڈ کی طرف بھاگا جہاں فائرنگ، دھماکوں اور بارود کی بو پھیلی ہوئی تھی۔رات گئے مجھے بتایا گیا کہ حسنین شہید ہو چکا ہے اور اس کی میت اسپتال میں ہے جہاں سے اسے تدفین کے لیے لایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ حسنین آج ہمارے ساتھ نہیں ہے لیکن اس کا عظیم مشن مکمل کیا جائے گا۔

پاکستان ہمارا ملک ہے اور اگر اسے میرے خون یا مزید بیٹوں کی ضرورت پڑی تو ہم اپنے وطن کےلیے قربانی دینے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس دہشت گردی کے خلاف قوم کے عزم میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور اس نے سب کو دہشت کے خلاف متحد کر دیا۔اے پی ایس حملہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے تکلیف دہ واقعات میں سے ایک ہے جب فوجی وردی میں ملبوس چھ دہشت گردوں نے اسکول میں داخل ہو کر طلباء، اساتذہ اور عملے پر اندھا دھند فائرنگ کی. نتیجے میں پرنسپل طاہرہ قاضی سمیت 147 افراد شہید ہوئے جن میں 132 طلباء شامل تھے اور کئی زخمی ہوئے۔پرنسپل طاہرہ قاضی اور دیگر اساتذہ اپنے طلباء کی حفاظت کےلیے دہشت گردوں کے سامنے چٹان بن کر کھڑے ہو گئے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا.

پاکستان کی بہادر سیکورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسکول کا محاصرہ کیا اور کامیاب آپریشن میں تمام دہشت گردوں کو ہلاک کرکے کئی طلباء اور اساتذہ کی قیمتی جانیں بچائیں۔مسلم لیگ (ن) نوشہرہ کے صدر حمزہ خان نے اے پی پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اے پی ایس حملے نے ملک کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن لمحے کی حیثیت اختیار کی جس نے پوری قوم کو دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے ناسور کے خلاف متحد کر دیا. انہوں نے کہا کہ بزدل دہشت گرد اسکول میں طلباء پر حملہ کرکے علم اور تعلیم کو ختم کرنا چاہتے تھے لیکن وہ قوم کے حوصلے پست نہ کر سکے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے دہشت گردی کو مسترد کر دیا۔انہوں نے کہا کہ حملے کے محض چند دن بعد اسکول دوبارہ کھول کر دہشت گردوں کے حامیوں کو ایک مضبوط پیغام دیا گیا۔

سانحہ اے پی ایس دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں ایک واضح پالیسی اور متفقہ پلان کا سبب بنا. اے پی ایس کے زندہ بچ جانے والے طلباء نے اپنی ہمت اور لگن سے ملک کا نام روشن کیا۔پشاور کا بہادر سپوت احمد نواز جو 16 دسمبر 2014 کے اس سانحے میں زندہ بچے تھے، 2023 میں مشہور آکسفورڈ یونیورسٹی یونین کے سب سے کم عمر صدر بن کر ہزاروں لوگوں کے لیے مشعلِ راہ بنے۔احمد نواز جو حملے میں متعدد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تھے، نے اپنے دو حریفوں کو شکست دے کر یہ انتخاب جیتا۔اس حملے میں ان کا بھائی حارث نواز بھی شہید ہوا تھا۔پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر زاہد انور نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احمد نواز پاکستان کا بہادر سپوت ہیں اور وہ غیر متزلزل ہمت اور ارادے کی علامت ہیں۔

ان کی کامیابی ثابت کرتی ہے کہ مضبوط عزم سے کوئی بھی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔اس وقت کی نواز شریف حکومت نے احمد نواز کو علاج کےلیے 12 فروری 2015 کو برطانیہ کے کوئین الزبتھ ہسپتال منتقل کیا تھا اور ان کے والد کو بیٹے کے علاج کےلیے 30.6 ملین روپے فراہم کیے تھے۔سانحے کو 11 سال گزرنے کے باوجود اس سانحے کی یادیں ہر پاکستانی کے ذہن میں تازہ ہیں۔اس سانحے کے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔اس موقع پر لوگوں اور رشتہ داروں نے شہداء کے گھروں اور قبرستانوں میں جا کر فاتحہ خوانی کی اور ان کے درجات کی بلندی کےلیے دعائیں کیں۔

 

مزید خبریں