سڈنی حملہ،بھارت پر عالمی سطح پر ریاستی دہشتگردی کے الزامات، پاکستان کے مؤقف کی تائید

اسلام آباد/سڈنی۔16دسمبر (اے پی پی):سڈنی میں پیش آنے والے حالیہ دہشتگرد حملے کے بعد بھارت پر عالمی سطح پر ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی پھیلانے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جنہیں مختلف عالمی ذرائع ابلاغ اور سکیورٹی رپورٹس نے نمایاں کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی تائید کرتی ہے کہ بھارت نہ صرف بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر …

اسلام آباد/سڈنی۔16دسمبر (اے پی پی):سڈنی میں پیش آنے والے حالیہ دہشتگرد حملے کے بعد بھارت پر عالمی سطح پر ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی پھیلانے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جنہیں مختلف عالمی ذرائع ابلاغ اور سکیورٹی رپورٹس نے نمایاں کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی تائید کرتی ہے کہ بھارت نہ صرف بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر اور پاکستان بلکہ کینیڈا، امریکا اور یورپی ممالک میں بھی منظم انداز سے دہشتگرد سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق سڈنی میں ہونے والا سفاکانہ حملہ بھارت کی عالمی سطح پر مبینہ اسپانسرڈ دہشتگردی کا ایک اور واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی جریدوں میں شائع ہونے والی رپورٹس میں مودی حکومت کے مبینہ کردار سے متعلق ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں، جن میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے مبینہ روابط اور سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ آسٹریلیا کے سکیورٹی حکام اور ایجنسیوں کی جانب سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جنہیں اس حملے سے جوڑا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حملے میں ملوث مرکزی ملزم ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر بین الاقوامی سفر کیا۔ فلپائن امیگریشن حکام کے مطابق سڈنی فائرنگ کے واقعے میں ملوث بھارتی شہریت کے حامل ایک باپ اور بیٹے نے حملے سے قبل فلپائن کا سفر کیا۔ بھارتی نژاد 50 سالہ ساجد اکرم اور اس کا 24 سالہ بیٹا نوید اکرم آسٹریلوی شہریت کے بھی حامل بتائے جاتے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق فلپائن امیگریشن نے تصدیق کی ہے کہ ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا، جہاں ان کی آخری منزل جنوبی صوبہ ڈاواؤ درج تھی۔

رپورٹس کے مطابق دونوں ملزمان یکم نومبر کو سڈنی سے فلپائن پہنچے اور 28 نومبر کو واپس روانہ ہوئے۔ آسٹریلوی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ساجد اکرم اور نوید اکرم نے گزشتہ ماہ جنوبی فلپائن میں عسکری تربیت حاصل کی، جس کے بعد سڈنی میں حملہ کیا گیا۔ بلومبرگ کے مطابق سڈنی دہشتگرد حملے پر بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزارتِ خارجہ کی خاموشی ان الزامات کو مزید تقویت دیتی ہے کہ اس حملے میں بھارتی نژاد عناصر براہِ راست ملوث ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ سڈنی میں پیش آنے والے اس دہشتگرد حملے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے جبکہ واقعے نے عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات اور ریاستی سطح پر دہشتگردی کے مبینہ نیٹ ورکس سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا ہے۔