اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کی سنیارٹی سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے سندھ سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا ہے اور حکومتِ سندھ کی دائر کردہ سول اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس اطہر من اللہ اور …
سپریم کورٹ ، سندھ پولیس افسران کی سنیارٹی 1990 سے بحال ،سندھ حکومتِ کی اپیلیں مسترد
اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کی سنیارٹی سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے سندھ سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا ہے اور حکومتِ سندھ کی دائر کردہ سول اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا۔
کیس میں بنیادی نکتہ یہ تھا کہ آیا 1990 میں ابتدائی طور پر تعینات کیے گئے پولیس افسران کی سنیارٹی ان کی پہلی تقرری سے شمار ہوگی یا 1991-92 میں مبینہ طور پر تازہ تقرری کی تاریخ سے۔عدالت کے مطابق متاثرہ پولیس افسران کو مارچ 1990 میں سندھ پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، تاہم فروری 1991 میں سیاسی بنیادوں پر تقرری کا الزام لگا کر انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
بعد ازاں ان افسران کو انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کے 3 جنوری 1994 کے نوٹیفکیشن کے تحت بحال کر دیا گیا جس میں واضح طور پر درج تھا کہ انہیں مالی فوائد تو نہیں ملیں گے لیکن ان کی اصل سنیارٹی 1990 سے برقرار رہے گی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بحالی کا قانونی مطلب یہی ہے کہ ملازم کو اس کی سابقہ حیثیت، بشمول سنیارٹی، کے ساتھ بحال کیا جائے۔
عدالت نے کہا کہ 2019 میں جاری کی گئی نئی سنیارٹی لسٹ کے ذریعے افسران کی سینیارٹی بغیر شوکاز نوٹس اور سماعت کے واپس لینا آئین کے آرٹیکل 10-A (منصفانہ سماعت) کی خلاف ورزی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ سنیارٹی ایک قیمتی حق ہے جو ملازم کے مستقبل، ترقی اور کیریئر پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، اس لیے اسے قانون اور قواعد کے مطابق ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے سندھ سروس ٹریبونل کی اس ہدایت کو درست قرار دیا کہ متاثرہ افسران کی سینیارٹی 12 اپریل 2019 سے پہلے والی حیثیت میں بحال کی جائے اور انہیں قانون کے مطابق ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔سپریم کورٹ نے حکومتِ سندھ کی جانب سے دائر سول اپیلیں (C.A. 53-K تا 55-K/2024) مسترد کر دیں جبکہ دیگر اپیلیں (C.A. 56-K تا 58-K/2024) وکیل کے بیان کی روشنی میں نمٹا دی گئیں۔یہ فیصلہ پولیس سروس میں سینیارٹی اور بحالی سے متعلق ایک اہم نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔









