بائیوٹیکنالوجی پر مبنی تحقیقات کو کاشتکاروں کی دہلیز تک پہنچا کر زراعت میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے، ملک رشید احمد خاں

فیصل آباد۔ 16 دسمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قومی غذائی استحکام اور تحقیق ملک رشید احمد خاں نے کہا ہے کہ جدید رجحانات بشمول بائیوٹیکنالوجی پر مبنی تحقیقات کو کاشتکاروں کی دہلیز تک پہنچا کر زراعت میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ 3 روزہ بائیوٹیکنالوجی کانگریس کے افتتاحی سیشن سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔ کانگریس …

فیصل آباد۔ 16 دسمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قومی غذائی استحکام اور تحقیق ملک رشید احمد خاں نے کہا ہے کہ جدید رجحانات بشمول بائیوٹیکنالوجی پر مبنی تحقیقات کو کاشتکاروں کی دہلیز تک پہنچا کر زراعت میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ 3 روزہ بائیوٹیکنالوجی کانگریس کے افتتاحی سیشن سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔ کانگریس کا انعقاد بائیوٹیکنالوجی سوسائٹی آف پاکستان، مرکز برائے زرعی بائیوکیمسٹری و بائیوٹیکنالوجی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی مسائل جیسے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لئے زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کو رواج دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بائیوٹیکنالوجی ایک کلیدی سائنس ہے جو کہ زرعی خوشحالی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کو لیبارٹری سے نکال کر کسان، صنعت اور صحت عامہ کی فلاح کے لئے استعمال کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب ایسی زرعی اقسام کو متعارف کرانا ہو گا جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف قوت مدافعت کی حامل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت زراعت میں جدت لانے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو پاکستان کی پہلی بائیوٹیکنالوجی سوسائٹی کے قیام پر مبارکباد دی۔ پنجاب ہائرایجوکیشن کمیشن کے چیئرپرسن ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ کچھ حلقوں میں بائیوٹیکنالوجی سے متعلق غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک نے بائیوٹیکنالوجی کو چار دہائیوں سے اپنایا ہوا ہے مگر ہم اب بھی اس میدان میں پیچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ایم کراپس ایک منظم طریقہ کار کے تحت تیار کی جاتی ہیں جس سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کے ماحول اور جانوروں پر بھی اثرات کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کانگریس کی سفارشات سے بائیوٹیکنالوجی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب، طوفان اور خشک سالی جیسے عوامل تیزی سے ہو رہے ہیں لہٰذا ہمیں فصلات کے جینز میں تبدیلی لاتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مدافعت پیدا کرنا ہو گی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے سالوں میں زرعی فصلات پر کیڑے مکوڑوں کے حملوں میں تیزی آ سکتی ہے جس کا سدباب کرنے کے لئے سائنسی بنیادوں پر حل تلاش کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بائیوٹیکنالوجسٹ مشترکہ کاوشیں عمل میں لاتے ہوئے زرعی خوشحالی کا نیا باب مرتب کریں۔

وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ بیج انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کر کے فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بائیوٹیکنالوجسٹ پر زور دیا کہ وہ زراعت کو منافع بخش کاروبار بنانے میں کردار ادا کریں تاکہ عام کسان کی زندگی میں خوشحالی آ سکے۔ ڈائریکٹر نبجی ڈاکٹر نصیر احمد سعید نے کہا کہ ان کے ادارے نے کئی فصلات کی بائیوٹیکنالوجی پر کام کرتے ہوئے اقسام تیار کی ہیں جس کو صنعت کے ساتھ مل کر کاشتکاروں تک پہنچانے کے لئے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائیوٹیکنالوجی قوانین میں بہتری لانا ناگزیر ہے تاکہ نئی اقسام کو عام کاشتکار تک پہنچایا جا سکے۔

ڈائریکٹر بائیوٹیکنالوجی ایوب ریسرچ ڈاکٹر قمرشکیل نے کہا کہ قدرت نے ملک کو بہترین وسائل سے نوازا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کا دانشمندانہ استعمال کرتے ہوئے زرعی ترقی کا نیا باب مرتب کیا جا سکے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملک میں بائیوٹیکنالوجی کو فروغ دے کر نہ صرف غذائی خودکفالت کا حصول ممکن ہو گا بلکہ کثیرزرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔ مرکز برائے اعلیٰ تعلیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سلطان حبیب اللہ نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد بائیوٹیکنالوجی میں تمام ممکنہ کاوشیں عمل میں لا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی نے صوبہ بھر کے ایگری زوننگ کے ساتھ ساتھ حال ہی میں کسان۔360 ایپ بھی مرتب کی ہے تاکہ کاشتکاروں کو رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی نے گندم، سویابین اور دیگر اجناس کی موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام متعارف کروائی ہیں۔

ڈائریکٹر کیب ڈاکٹر بشریٰ سعدیہ نے کہا کہ بائیوٹیکنالوجی سوسائٹی اس حوالے سے پاکستان کی پہلی سوسائٹی ہے جس میں مختلف جامعات سے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتے ہوئے مشترکہ کاوشیں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر روتھم سٹیڈ یو کے سے ڈاکٹر ندا غوری، کراپ لائف ایشیا ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیانگ ہی تان و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

مزید خبریں