اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کا پانچواں اجلاس منگل کو رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار کی زیر صدارت منعقد ہوا، کمیٹی نے گزشتہ اجلاس کے کارروائی ریکارڈ کی منظوری دیتے ہوئے سفارشات کے حوالے سے پیش کردہے تعمیلاتی رپورٹ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ علامہ اقبال کے 150 ویں یوم پیدائش سے قبل ان کے خاندان کے انٹرویوز کو …
رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کا پانچواں اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کا پانچواں اجلاس منگل کو رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار کی زیر صدارت منعقد ہوا، کمیٹی نے گزشتہ اجلاس کے کارروائی ریکارڈ کی منظوری دیتے ہوئے سفارشات کے حوالے سے پیش کردہے تعمیلاتی رپورٹ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
علامہ اقبال کے 150 ویں یوم پیدائش سے قبل ان کے خاندان کے انٹرویوز کو کتابی شکل میں محفوظ کرنے اور شائع کرنے کی سفارش کے حوالے سے اقبال اکیڈمی پاکستان کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ اکیڈمی نے علامہ اقبال کے بیٹے اور بیٹی کے انٹرویوز پہلے ہی ریکارڈ کر رکھے ہیں جو ان کی زندگی اور کام پر مبنی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اکیڈمی ان انٹرویوز کو ترتیب و تدوین دے کر کتابی شکل میں شائع کرنے کے مراحل میں ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ اکیڈمی علامہ اقبال کی تیسری نسل سے بھی رابطہ کرے اور مزید مواد حاصل کرے۔
تمام انٹرویوز کو ایک کتاب میں محفوظ کرکے علامہ اقبال کے 150 ویں یوم پیدائش سے قبل شائع کیا جائے اور اس مواد کو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا جائے۔ کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ اکیڈمی علامہ اقبال کی زندگی اور کارناموں پر ایک مختصر دستاویزی فلم یا فلم بھی تیار کرے اور اسے بھی سوشل میڈیا پر نشر کرے تاکہ نوجوان نسل کو اس سے جوڑا جا سکے۔کمیٹی کی پچھلی سفارش کے حوالے سے کہ علامہ اقبال کے 150 ویں یوم پیدائش کے موقع پر پورا سال سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کو شامل کرتے ہوئے تقریبات منعقد کی جائیں۔
قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ڈویژن نے پورا سال نوجوانوں کو شامل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ علامہ اقبال کے 150 ویں یوم پیدائش کی تقریبات میں صوبوں، مشاہیر اور پیمرا کے چیئرمین کو بھی شامل کیا جائے۔ ثقافتی تقریبات کی تشہیر کی سفارش کے حوالے سے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بریفنگ دی کہ ادارہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ تمام دستیاب سوشل پلیٹ فارمز پر اپنی تقریبات کی تشہیر کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گا۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ ثقافتی فروغ کے لئے غیر ملکی پارلیمنٹرینز کو پی این سی اے کی گیلریز کا دورہ کرایا جائے۔ نیز طلباء اور عوام کے دورے یا ٹرپس بھی منظم کئے جائیں تاکہ ثقافت کو فروغ دیا جا سکے اور آمدنی بھی حاصل ہو۔ کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ حکومت ثقافتی فروغ کے لئے اسلام آباد میں جلد از جلد ایک قومی عجائب گھر تعمیر کرے اور یہ کہ تمام ورثائی مقامات صوبائی حکومتوں کی بجائے وفاقی حکومت کے تحت ہونے چاہئیں۔اس کے بعد کمیٹی نے "اقبال اکیڈمی (ترمیمی) بل، 2025” اور "نیشنل فنڈ فار کلچرل ہیریٹیج (ترمیمی) بل، 2025” پر غور کیا اور دونوں بلوں کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
آخر میں مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے ماتحت متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی ) کے ایڈیشنل سیکرٹری نے کمیٹی کو ڈسکہ اور پشاور میں واقع گردواروں کی بحالی، نیز ای ٹی پی بی کے دائرہ کار اور صوبائی دائرہ کار میں آنے والے تمام مذہبی مقامات کے بارے میں ایک جامع بریفنگ دی۔اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی نتاشہ دولتانہ، ثمر ہارون بلور، سعیدہ جمشید،شائستہ خان، مہتاب اکبر راشدی، صبا تالپور،نعیمہ کشور خان، شہناز سلیم ملک، غزالہ انجم اور سائرہ تارڑ نے شرکت کی جبکہ قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے وفاقی وزیر، سینئر جوائنٹ سیکرٹری اور دیگر سینئر افسران، نیز محکمہ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور وزارت قانون کے افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔








