فیصل آباد۔ 18 دسمبر (اے پی پی):موجودہ دور میں کھادوں کے مناسب استعمال کے بغیر زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن نہیں جبکہ پودوں کی بڑھوتری کیلئے ثانوی غذائی جزو والی کھادیں خاص اہمیت کی حامل ہیں اور معاشی نقطہ نظر سے بھی کھادوں کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔ جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے کہا کہ کھادوں کی اقسام کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔انہوں …
ثانوی غذائی جزو والی کھادوں کے مناسب استعمال کے بغیر زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن نہیں،ماہرین جامعہ زرعیہ

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 18 دسمبر (اے پی پی):موجودہ دور میں کھادوں کے مناسب استعمال کے بغیر زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن نہیں جبکہ پودوں کی بڑھوتری کیلئے ثانوی غذائی جزو والی کھادیں خاص اہمیت کی حامل ہیں اور معاشی نقطہ نظر سے بھی کھادوں کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔
جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے کہا کہ کھادوں کی اقسام کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اجزائے کبیرہ و الی کھادیں جن میں نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاش وغیرہ شامل ہیں ،کی فصل کو اشد ضرورت ہوتی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر اجزائے ثانوی کا استعمال بھی سود مند ہے اور کیلشیم، میگنیشیم،سلفر فصلات پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔انہوں نے بتا یا کہ اجزائے صغیرہ کا استعمال کاشتکاروں کو مالی منفعت فراہم کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو کاشتکار اجزائے ثانوی پر مشتمل کیلشیم، سنگل سپر فاسفیٹ، کیلشیم امونیم نائٹریٹ، سلفر، امونیم سلفیٹ، زنک سلفیٹ،پوٹاشیم سلفیٹ وغیرہ کا ماہرین زراعت کے مشوروں سے استعمال کرتے ہیں انہیں بہترین فصل کے حصول میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔








