فیصل آباد۔ 18 دسمبر (اے پی پی):معاشرے میں بہتری اور شفافیت کیلئے ہمیں میرٹ اور خود احتسابی کورواج دے کر بدعنوانی کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہوگی تاکہ ملک کی ترقی میں حائل بڑی رکاوٹ کو دورکرکے اسے پائیدار ترقی سے ہمکنار کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہارجامعہ زرعیہ فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر ذوالفقار علی نے یونیورسٹی کے سینئر ٹیوٹر آفس کی کریکٹر بلڈنگ سوسائٹی کے زیراہتمام سیمینار …
جامعہ زرعیہ میں ”طلبہ کو بدعنوانی سے پاک مستقبل کی تعمیر کے لئے بااختیار بنانا“کے عنوان پر سیمینار کا انعقاد

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 18 دسمبر (اے پی پی):معاشرے میں بہتری اور شفافیت کیلئے ہمیں میرٹ اور خود احتسابی کورواج دے کر بدعنوانی کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہوگی تاکہ ملک کی ترقی میں حائل بڑی رکاوٹ کو دورکرکے اسے پائیدار ترقی سے ہمکنار کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہارجامعہ زرعیہ فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر ذوالفقار علی نے یونیورسٹی کے سینئر ٹیوٹر آفس کی کریکٹر بلڈنگ سوسائٹی کے زیراہتمام سیمینار بعنوان ”طلبہ کو بدعنوانی سے پاک مستقبل کی تعمیر کے لئے بااختیار بنانا“ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر قومی احتساب بیورو عطیہ عظمت، سینئر ٹیوٹر ڈاکٹر شوکت علی، انچارج کریکٹر بلڈنگ سوسائٹی ڈاکٹر رافع مزمل نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہاکہ بلاشبہ بد عنوانی اداروں کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے اور معاشی انتظامی اور سماجی زوال کا ایک بڑا سبب ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرپشن کا سرطان معاشروں کو تباہ کرتا ہے جس کیلئے ہمیں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے اور عوامی سطح پر شعور بیدار کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں روزانہ اپنی خود احتسابی کرنی چاہئے تاکہ اگر اس دن کسی سے کوئی زیادتی یا پیشہ وارانہ ذمہ داریوں میں کوتاہی ہوئی ہو تو اگلے ہی دن اس کا ازالہ کر لیا جائے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب عطیہ عظمت نے بتایا کہ مختلف تعلیمی اداروں‘ کالجز اور جامعات میں انسداد بدعنوانی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کیلئے سیمینار منعقدکر رہے ہیں تاکہ نوجوانوں کو بدعنوانی سے پاک معاشرے کے قیام کا ہراول دستہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب اپنی کارروائی کسی بھی شکایت‘ عدالتی حکم یا قابل بھروسہ معلومات پر شروع کرتا ہے جس میں دستیاب معلومات کی بنیاد پر مروجہ انکوائری کے بعد حاصل ہونے والے شواہد پر ملزم سے اس بارے تفتیش کا عمل شروع کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر شوکت علی نے کہا کہ مثالی معاشروں میں بد عنوانی کو سماجی سطح پر لعنت تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہمارے سماج میں افراد کی تربیت اس نہج کی ہونی چاہیے کہ بد عنوانی کیلئے نفرت قوم کے خمیر میں شامل ہوجائے۔ ڈاکٹر رافع مزمل نے کہا کہ ہمیں معاشرے سے کرپشن کا ناسور ختم کرنے کیلئے مشترکہ کاوشیں عمل میں لائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن سے نہ صرف ملک تنزلی کا شکار ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں منفی رجحانات پروان چڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی طلبہ کی کردار سازی کیلئے تمام ممکنہ کاوشیں عمل میں لا رہی ہے۔








