لاہور۔19دسمبر (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اصل مسئلہ گورننس کا ہے، گزشتہ دو برسوں اور مجموعی طور پر تیرہ سال میں صوبے میں کوئی نمایاں ترقی نظر نہیں آتی ، صوبائی حکومت کا ہیڈ کوارٹر پشاور کی بجائے اڈیالہ جیل منتقل ہو چکا ہے، وزیراعلی اور کابینہ کو جیل کے باہر بیٹھنے کے بجائے صوبے میں رہ کر عوامی مسائل …
خیبر پختونخوا میں تیرہ سال میں کوئی نمایاں ترقی نظر نہیں آتی، گورنر فیصل کریم کنڈی

مزید خبریں
لاہور۔19دسمبر (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اصل مسئلہ گورننس کا ہے، گزشتہ دو برسوں اور مجموعی طور پر تیرہ سال میں صوبے میں کوئی نمایاں ترقی نظر نہیں آتی ، صوبائی حکومت کا ہیڈ کوارٹر پشاور کی بجائے اڈیالہ جیل منتقل ہو چکا ہے، وزیراعلی اور کابینہ کو جیل کے باہر بیٹھنے کے بجائے صوبے میں رہ کر عوامی مسائل حل کرنے چاہئیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کے روز یہاں سندس فائونڈیشن کے دورہ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نامور صحافی سہیل وڑائچ، صدر سندس فائونڈیشن محمد یاسین خان، ڈائریکٹر خالد عباس ڈار سمیت دیگر ذمہ داران نے گورنر کا استقبال کیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے تھیلے سیمیا سے متاثرہ بچوں کے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور بچوں کی خیریت دریافت کی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ سندس فائونڈیشن میں ہونے والا کام صرف لاہور یا کسی ایک صوبے تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان کے بچوں کے لیے ایک تاریخی خدمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی دیکھ بھال اور علاج کے انتظامات مثالی ہیں اور ایسی فلاحی تنظیموں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونا چاہیے۔ انہوں نے سندس فائونڈیشن کے تمام ممبران کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے رہا نہیں ہوں گے، جبکہ انہیں جیل میں وی وی آئی پی سہولیات دی جا رہی ہیں، جس سے دیگر قیدی متاثر ہو رہے ہیں۔ایک سوال پر گورنر نے واضح کیا کہ گورنر راج کا نفاذ صوبائی حکومت کے رویے پر منحصر ہے، اگر صوبائی حکومت وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے تو گورنر راج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
تاہم اگر وفاق کے فیصلوں، خصوصا افغان مہاجرین کے انخلا میں تعاون نہ کیا گیا تو گورنر راج لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2008 سے 2013 کے دوران شدت پسند عناصر کو واپس لا کر بسایا گیا، آج انہی پالیسیوں کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ٹھوس شواہد دیے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، تاہم افغان حکومت اس معاملے پر سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ بغیر ویزا کوئی غیر ملکی پاکستان میں نہیں رہ سکے گا، افغان مہاجرین واپس جا کر ویزا کے ذریعے آ سکتے ہیں، تاہم تمام افغان شہری دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ چند عناصر مسائل پیدا کر رہے ہیں۔
احتساب کے حوالے سے گورنر کے پی کے نے کہا کہ ماضی میں صرف سیاستدانوں کا احتساب ہوتا تھا، اداروں کا نہیں۔ فیلڈ مارشل نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف کارروائی کر کے ثابت کیا ہے کہ احتساب سب کے لیے ہے، اب عدلیہ میں بھی احتساب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی غلطیوں کے باعث ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی اور یوسف رضا گیلانی کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی محب وطن پاکستانی نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اچھے کام جہاں بھی ہوں ان کی تعریف ہونی چاہیے، سندھ میں صحت کی سہولیات اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام آج بھی کامیابی سے چل رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوامیں بلین ٹری منصوبے کو بھی فالو نہیں کیا گیا،آخر میں انہوں نے کہا کہ جس صوبے میں بھی عوام کے لیے اچھا کام ہو رہا ہے، اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے تاکہ پورے ملک میں ترقی کا عمل آگے بڑھ سکے۔








