سعودی عرب مصنوعی ذہانت کے لئےحکومتی تیاری کے انڈیکس میں سر فہرست

ریاض۔22دسمبر (اے پی پی):سعودی عرب نے Oxford Insights ادارے کی جانب سے جاری کردہ ’’گورنمنٹ اے آئی ریڈینس انڈیکس 2025‘‘ میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ۔ العربیہ اردو کے مطابق گورنمنٹ اے آئی ریڈینس انڈیکس ایک مخصوص عالمی اشاریہ ہے جو عوامی پالیسیوں اور حکومتی خدمات میں مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے کی صلاحیت کی پیمائش کرتا ہے۔ اس انڈیکس میں …

ریاض۔22دسمبر (اے پی پی):سعودی عرب نے Oxford Insights ادارے کی جانب سے جاری کردہ ’’گورنمنٹ اے آئی ریڈینس انڈیکس 2025‘‘ میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ۔ العربیہ اردو کے مطابق گورنمنٹ اے آئی ریڈینس انڈیکس ایک مخصوص عالمی اشاریہ ہے جو عوامی پالیسیوں اور حکومتی خدمات میں مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے کی صلاحیت کی پیمائش کرتا ہے۔

اس انڈیکس میں دنیا بھر کے 195 ممالک کا جائزہ لیا جاتا ہے، جس کی بنیاد گورننس، انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی آمادگی جیسے معیارات پر ہوتی ہے۔ یہ انڈیکس جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں ممالک کی تنظیمی منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے لیے اہم ترین عالمی حوالوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ 2025 کے اس انڈیکس میں سعودی عرب کا پہلی پوزیشن حاصل کرنا اس شعبے میں مملکت کے قومی تجربے کی پختگی کا مظہر ہے۔

یہ جدید ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ اور مؤثر استعمال کو فروغ دینے میں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے، جو معیارِ زندگی کو بہتر بنانے، حکومتی خدمات کی کارکردگی بڑھانے اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ مملکت نے مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر میں نمایاں پیش رفت کی بدولت یہ کامیابی حاصل کی ہے۔

اس انفراسٹرکچر کو معروف قومی پلیٹ فارم اور حل سہارا دے رہے ہیں جیسا کہ "Humane” کمپنی جو کمپیوٹنگ کی صلاحیتوں،اے آئی ماڈلز کی تیاری، مصنوعی ذہانت کی گورننس اور سرکاری شعبے میں سمارٹ ٹیکنالوجیز کے نفاذ کو ممکن بناتی ہے۔

سعودی عرب قومی پالیسیاں وضع کرنے، اے آئی سسٹمز کی تیاری و پھیلاؤ میں تیزی لانے اور جدید تکنیکی حل اپنانے میں انتہائی لچک دار ثابت ہوا ہے اسی وجہ سے مملکت نے گورننس کے محور میں عالمی سطح پر ساتویں اور سرکاری شعبے میں ٹیکنالوجی اپنانے کے محور میں عالمی سطح پر نویں پوزیشن حاصل کی ہے۔

یہ ترقی مصنوعی ذہانت کے تنظیمی اور اطلاقی، دونوں پہلوؤں میں متوازن پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔