نیٹو یوکرین میں مداخلت کے لیے بہانے گھڑ رہا ہے، روسی رکن پارلیمان

ماسکو ۔23دسمبر (اے پی پی):روسی پارلیمان کے سینئر رکن اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی آف رشیا کے سربراہ لیونید سلوٹسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے یوکرین میں تنظیم کی ممکنہ مداخلت کو جائز قرار دینے کے لیے بہانے تراش رہے ہیں۔ تاس کے مطابق انہوں نے ٹیلی گرام بیان میں کہا کہ مارک روٹے یہ کہہ کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں کہ …

ماسکو ۔23دسمبر (اے پی پی):روسی پارلیمان کے سینئر رکن اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی آف رشیا کے سربراہ لیونید سلوٹسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے یوکرین میں تنظیم کی ممکنہ مداخلت کو جائز قرار دینے کے لیے بہانے تراش رہے ہیں۔

تاس کے مطابق انہوں نے ٹیلی گرام بیان میں کہا کہ مارک روٹے یہ کہہ کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں کہ اگر روس کسی ممکنہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کرے تو یورپی ممالک یوکرین میں فوج تعینات کرنے کے لیے تیار ہوں گے،یہ بیانات دراصل یوکرین میں نیٹو کی مداخلت کو جواز فراہم کرنے کی کوشش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات روس کے خلاف منصوبوں کو نئے انداز میں پیش کرنے کے مترادف ہیں جن کا مقصد ہماری سرحد کے قریب دشمن ٹھکانوں کو برقرار رکھنا ہے۔

ڈوما کی بین الاقوامی امور کمیٹی کے چیئرمین نے یاد دلایا کہ روس متعدد بار خبردار کر چکا ہے کہ یوکرین میں نیٹو کے فوجی دستوں کی تعیناتی ناقابلِ قبول ہے،ایسے تمام دستے خصوصی فوجی آپریشن کے دوران روسی فوج کے لیے جائز اہداف تصور کیے جائیں گے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں مداخلت کے منصوبے امن کے فروغ کے بجائے تنازعے کو طول دینے اور اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا باعث بنیں گے، یہ اقدامات تنازعے کی بنیادی وجوہات کو ختم نہیں کرتے۔

مزید خبریں