لاہور۔23دسمبر (اے پی پی):قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ نے ڈیجیٹل عدلیہ کی جانب ایک اور انقلابی اقدام اٹھا لیا ۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی خصوصی ہدایت پر لاہور ہائیکورٹ سمیت پنجاب بھر کی ضلعی عدلیہ میں بائیومیٹرک ویری فیکیشن سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ میں مقدمات کی دائر ی کیلئے …
لاہور ہائیکورٹ سمیت پنجاب بھر کی ضلعی عدلیہ میں بائیومیٹرک ویری فیکیشن سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

مزید خبریں
لاہور۔23دسمبر (اے پی پی):قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ نے ڈیجیٹل عدلیہ کی جانب ایک اور انقلابی اقدام اٹھا لیا ۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی خصوصی ہدایت پر لاہور ہائیکورٹ سمیت پنجاب بھر کی ضلعی عدلیہ میں بائیومیٹرک ویری فیکیشن سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ میں مقدمات کی دائر ی کیلئے فریقین کی بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دی جائے گی، اس کے ساتھ ساتھ گواہان اور ضامنین کی بائیومیٹرک ویری فیکیشن بھی لازمی ہوگی تاکہ عدالتی نظام کو شفاف اور محفوظ بنایا جا سکے۔
لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے عدالتی بائیومیٹرک سسٹم کو نادرا کے ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک کیا جائے گا جبکہ بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت نادرا ای سہولت مراکز پر بھی دستیاب ہوگی۔یہ نظام لاہور ہائیکورٹ کے پرنسپل سیٹ لاہور کے علاوہ ملتان، بہاولپور اور راولپنڈی بنچز میں بھی نافذ کیا جائے گا۔
اسی طرح صوبہ بھر کی تمام ضلعی عدلیہ میں فریقین مقدمہ، گواہان اور ضامنین کی بائیومیٹرک ویری فیکیشن کو یقینی بنایا جائے گا۔عدالتی حکام کے مطابق بائیومیٹرک تصدیق کے نفاذ سے جعلی مقدمہ بازی کا خاتمہ ہوگا، فریقین مقدمہ کو تحفظ حاصل ہوگا اور جعلسازی کے سدباب میں مدد ملے گی اور اس نظام کے ذریعے جعلی گواہان اور ضامنین کے تدارک کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا جس سے انصاف کی بروقت اور شفاف فراہمی ممکن ہوگی۔








