پاکستان میں سرمایہ کاری کا مجموعی ماحول واضح طور پر مثبت سمت میں بڑھ رہا ہے،خرم شہزاد

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا مجموعی ماحول واضح طور پر مثبت سمت میں بڑھ رہا ہے اور مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری کےلئے آرہے ہیں جوبدلتے ہوئے معاشی بیانیے کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ایکس ‘‘ پر اپنے ایک پیغا م میں انہوں …

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا مجموعی ماحول واضح طور پر مثبت سمت میں بڑھ رہا ہے اور مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری کےلئے آرہے ہیں جوبدلتے ہوئے معاشی بیانیے کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ایکس ‘‘ پر اپنے ایک پیغا م میں انہوں نے کہا کہ ناقدین کی رائے کے برعکس ملک میں سرمایہ کاری کا مجموعی ماحول واضح طور پر مثبت سمت میں بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ عرصے کے دوران ہونے والے بڑے سرمایہ کاری معاہدے اس تاثر کو واضح طور پر غلط ثابت کر رہے ہیں کہ ملک سرمایہ کاری کے لیے غیر موزوں ہے۔ صرف چند نمایاں سودوں ہی نے مجموعی طور پر 545 ارب روپے (تقریباً 1.95 ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری کو حقیقت میں بدل دیا ہے، جو ملکی معیشت میں اعتماد کی مضبوط علامت ہے،حالیہ بڑے معاہدوں میں اینگروکی جانب سے دیودار (جاز) کا 157 ارب روپے میں حصول، اتصلات کا ٹیلی نار پاکستان کو 108 ارب روپے میں خریدنا، میپل لیف کا پائنیر سیمنٹ 76 ارب روپے میں حاصل کرنا، نشاط گروپ کا رفحان میز68.5 ارب روپے میں خریدنا اور سب سے نمایاں عارف حبیب کی قیادت میں کنسورشیم کی جانب سے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کا 135 ارب روپے میں حصول شامل ہے، جو مکمل نجکاری کی صورت میں تقریباً 180 ارب روپے تک جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں معدنیات و کان کنی کے شعبے میں بھی ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پانچ بڑے کاروباری گروپس پر مشتمل نیا کنسورشیم پاکستان میں داخل ہو چکا ہے، اس کنسورشیم کی مجموعی مالیت 5 ارب ڈالر سے زائد بتائی جا رہی ہے اور یہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے منصوبوں پر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گوگل نے بھی پاکستان میں نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ 19 ماہ کے دوران متعدد عالمی ادارے اور کمپنیاں پاکستان میں قدم رکھ چکی ہیں، جن میں بی وائی ڈی ، آرامکو، سوکار، گن وور، ابو ظہبی پورٹس، مشرق بینک ڈیجیٹل، وافی انرجی، ترک پٹرولیم، نووا منرلز، سٹریٹجک میٹلز یو ایس، چیری آٹوموبائلز، سام سنگ، پرو ڈیوائس، رسافٹ سینرکن اور بیرک گولڈ شامل ہیں۔

مزید برآں، ایپل بھی ایک مقامی گروپ کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے لیے بات چیت کے مرحلے میں ہے۔خرم شہزاد نے کہا کہ پاکستان اور چینی کمپنیوں کے درمیان مختلف شعبوں میں 1.5 ارب ڈالر مالیت کے تازہ بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) معاہدے بھی اس اعتماد کا عملی ثبوت ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 2026 میں 16 سے زائد آئی پی اوز متوقع ہیں جبکہ ایکویٹی سرمایہ کاروں کی تعداد گزشتہ 18 ماہ میں 37 فیصد کے تاریخی اضافے کے ساتھ نئی بلندی پر پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے اسپیکٹرم لائسنسز کے اجراء کے باعث ٹیلی کام سیکٹر میں بھی سرمایہ کاری کی نئی آمد متوقع ہے، جس کا اعلان خود وفاقی وزیر خزانہ کر چکے ہیں۔

مشیرخزانہ نے کہاکہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری ہوچکی ہے جو دو اہم رجحانات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک جانب مقامی سرمایہ کار گروپس کی جارحانہ اور سنجیدہ شرکت سامنے آئی ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت کی جانب سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عملی پیش رفت دکھائی دے رہی ہےجن میں نجکاری، ڈی ریگولیشن، ٹیرف لبرلائزیشن، ٹیکس اصلاحات، توانائی کے سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو، پنشن اصلاحات، قرضہ مینجمنٹ اور کاروباری آسانیاں شامل ہیں۔

اس پورے عمل میں ایس آئی ایف سی کی مربوط کوششیں سرمایہ کاری کے ماحول کو مؤثر اور پیداواری بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے کے لیے دو مقامی گروپس کی مشترکہ بولیاں تقریباً ایک ارب ڈالر کے قریب تھیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملکی نجی سرمایہ نہ صرف مضبوط ہے بلکہ نجکاری کے آئندہ منصوبوں میں بھرپور دلچسپی بھی رکھتا ہے۔

C

مزید خبریں