منیر نیازی کی 19ویں برسی، ادبی حلقوں میں عظیم شاعر کو خراجِ عقیدت

اسلام آباد۔26دسمبر (اے پی پی):اردو اور پنجابی کے نامور شاعر منیر نیازی کو ان کی 19ویں برسی جمعہ کو منائی گئی ۔ادبی و ثقافتی حلقوں اور ذرائع ابلاغ نے ان کی لازوال شاعری اور ادب کے لیے گرانقدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔منیر نیازی 9 اپریل 1923 کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیارپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اردو میں شاعری کے تیرہ مجموعے اور پنجابی میں تین مجموعے …

اسلام آباد۔26دسمبر (اے پی پی):اردو اور پنجابی کے نامور شاعر منیر نیازی کو ان کی 19ویں برسی جمعہ کو منائی گئی ۔ادبی و ثقافتی حلقوں اور ذرائع ابلاغ نے ان کی لازوال شاعری اور ادب کے لیے گرانقدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔منیر نیازی 9 اپریل 1923 کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیارپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اردو میں شاعری کے تیرہ مجموعے اور پنجابی میں تین مجموعے یادگار چھوڑے، جو آج بھی ادب کے قارئین میں بے حد مقبول ہیں۔

ان کے مشہور اردو مجموعوں میں ’’تیز ہوا اور تنہا پھول‘‘، ’’جنگل میں دھنک‘‘ اور ’’ماہِ منیر‘‘ شامل ہیں، جبکہ پنجابی زبان میں ان کی تخلیقات ’’سفر دی رات‘‘، ’’چار چپ چیزاں‘‘ اور ’’راستہ دسن والئے تیرے‘‘ کو خاص مقام حاصل ہے۔ان کا کلام آج بھی گہرے جذبات اور فکری گہرائی کی وجہ سے سراہے جاتا ہے۔

شاعری کے علاوہ منیر نیازی نے فلموں کے لیے نغمے بھی تحریر کیے جو بے پناہ مقبول ہوئے اور آج بھی شائقین میں پسند کیے جاتے ہیں۔منیر نیازی 26 دسمبر 2006 کو لاہور میں انتقال کر گئے، مگر ان کا ادبی ورثہ آج بھی زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنا ہوا ہے۔

مزید خبریں