لندن۔30دسمبر (اے پی پی):فارمولا ون میں پہلی خاتون عالمی چیمپئن کی تلاش کے لئے کوششیں تیز ہو گئی ہیں، جہاں انگلینڈ میں ایک تاریخی اقدام کے تحت کم عمر لڑکیوں کو موٹر سپورٹس کی دنیا سے متعارف کرایا جا رہا ہے، تاکہ مردوں کے غلبے والے اس کھیل میں صنفی فرق کو کم کیا جا سکے۔اے ایف پی کے مطابق اکتوبر میں انگلینڈ کے شہر نوٹنگھم میں منعقد ہونے والے …
فارمولا ون کی پہلی خاتون ورلڈ چیمپئن کی تلاش تیز، لڑکیوں کو موٹر سپورٹس کی جانب لانے کی نئی کوششیں

مزید خبریں
لندن۔30دسمبر (اے پی پی):فارمولا ون میں پہلی خاتون عالمی چیمپئن کی تلاش کے لئے کوششیں تیز ہو گئی ہیں، جہاں انگلینڈ میں ایک تاریخی اقدام کے تحت کم عمر لڑکیوں کو موٹر سپورٹس کی دنیا سے متعارف کرایا جا رہا ہے، تاکہ مردوں کے غلبے والے اس کھیل میں صنفی فرق کو کم کیا جا سکے۔اے ایف پی کے مطابق اکتوبر میں انگلینڈ کے شہر نوٹنگھم میں منعقد ہونے والے ایک خصوصی ٹیسٹ ڈے کے دوران درجن بھر لڑکیوں نے کارٹنگ ٹریک پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس اقدام کا مقصد کم عمری میں لڑکیوں کو ریسنگ کی جانب راغب کرنا ہے، تاکہ مستقبل میں وہ فارمولا ون جیسے اعلیٰ درجے کے مقابلوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔فارمولا ون میں آخری بار کسی خاتون ڈرائیور نے 1976 میں شرکت کی تھی، جب اطالوی ڈرائیور لیللا لومبارڈی نے ایک گراں پری میں حصہ لیا۔ اس کے بعد سے خواتین کی عدم موجودگی کو ماہرین کم عمری میں مواقع کی کمی سے جوڑتے ہیں۔
خواتین ڈرائیورز کی حمایت کرنے والی تنظیم مور دین ایکوئل کے مطابق، لڑکیاں اوسطاً لڑکوں کے مقابلے میں 2 سال بعد کارٹنگ شروع کرتی ہیں۔ تنظیم کے مطابق یہی ابتدائی فرق آگے چل کر فارمولا ون تک رسائی میں بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔موٹر سپورٹس یوکے کے کوچنگ اور اکیڈمی پاتھ وے مینیجر کیمیرون بگس نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ وہ ابتدائی قدم ہیں جو ایک لڑکی اٹھا سکتی ہے۔ ہم گراس روٹس اور ایلیٹ لیول کے درمیان خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔فارمولا ون دنیا کے چند غیر صنفی تقسیم والے کھیلوں میں شامل ہے، تاہم اس کے باوجود یہ سب سے زیادہ مردوں کے غلبے والا کھیل سمجھا جاتا ہے۔
ایف ون کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق، اس کے مداحوں کی عالمی تعداد 82 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جو 2018 کے بعد 63 فیصد اضافہ ہے۔مور دین ایکوئل کی ڈرائیور ڈویلپمنٹ سربراہ لارن فرو نے کہا کہ گزشتہ 50 برسوں میں خواتین کے لیے بنایا گیا نظام کسی خاتون کو مسابقتی طور پر فارمولا ون تک نہیں پہنچا سکا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لڑکیاں موجودہ ڈھانچے میں ترقی نہیں کر پا رہیں۔تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ اس کا ہدف تاریخ رقم کرنا ہے اور ایک ایسی خاتون ڈرائیور تیار کرنا ہے جو نہ صرف فارمولا ون میں مقابلہ کرے بلکہ جیت بھی حاصل کرے۔ادھر 15 سالہ برطانوی ڈرائیور سکائی پارکر، جو 6 سال کی عمر سے کارٹنگ کر رہی ہیں، فارمولا ون ورلڈ چیمپئن بننے کے خواب دیکھ رہی ہیں۔
سپین کے سرکٹ ڈی بارسلونا کاتالونیا میں فارمولا فور کار چلاتے ہوئے انہوں نے کہایہ افسوسناک ہے کہ فارمولا ون میں کوئی خاتون رول ماڈل موجود نہیں۔ماہرین کے مطابق، مالی اخراجات، ثقافتی رکاوٹیں، سپانسرشپ کی کمی اور رول ماڈلز کی عدم موجودگی وہ بڑے عوامل ہیں جو خواتین کی راہ میں حائل ہیں۔نوٹنگھم میں شریک 8سالہ تھیا نے دیگر لڑکیوں کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ شرمانا مت، بہادر بنو اور مزہ لو۔یہ اقدامات امید دلاتے ہیں کہ مستقبل میں فارمولا ون کی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون کا عالمی چیمپئن بننا محض خواب نہیں رہے گا۔








