اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے 15/16 سالہ لڑکے کے قتل کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کی سزا میں مزید نرمی کرتے ہوئے قتل کو دفعہ 302(b) کے بجائے 302(c) تعزیرات پاکستان کے زمرے میں قرار دے دیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنھور اور جسٹس اشتیاق …
نابالغ لڑکے کے قتل کا مقدمہ، سپریم کورٹ نے سزائے موت عمر قید میں بدلنے کے بعد مزید کمی کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے 15/16 سالہ لڑکے کے قتل کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کی سزا میں مزید نرمی کرتے ہوئے قتل کو دفعہ 302(b) کے بجائے 302(c) تعزیرات پاکستان کے زمرے میں قرار دے دیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنھور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے شہزاد لیاقت کی اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کا فیصلہ جزوی طور پر تبدیل کر دیا۔
عدالت کے مطابق واقعہ اچانک جھگڑے کے دوران غصے کی حالت میں پیش آیا جس میں کسی قسم کی پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایسا واقعہ دفعہ 302(c) کے تحت آتا ہے جو اچانک لڑائی اور اشتعال میں کیے گئے قتل سے متعلق ہے۔عدالت نے شہزاد لیاقت کی سزا سزائے موت سے عمر قید میں تبدیل کرنے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو مزید تبدیل کرتے ہوئے 20 سال قید بامشقت میں بدل دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ مقتول کے ورثاء کو دی جانے والی تین لاکھ روپے کی دیت/معاوضہ اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سزا برقرار رہے گی جبکہ ملزم کو دفعہ 382-B کے تحت رعایت بھی دی جائے گی۔فیصلے کے مطابق واقعہ 7 اپریل 2012ء کو ضلع بہاولنگر کے علاقے چشتیاں میں پیش آیا جہاں مقتول لڑکا موبائل ایزی لوڈ کے لیے ملزم کی دکان پر گیا۔
معمولی تکرار کے بعد ملزم نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں لڑکا موقع پر شدید زخمی ہوا اور بعد ازاں دم توڑ گیا۔سپریم کورٹ نے عینی شاہدین، طبی شواہد اور مجموعی حالات کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ اگرچہ جرم ثابت ہے تاہم واقعہ اچانک پیش آنے کے باعث اسے دانستہ قتل کے سخت ترین زمرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔دوسری جانب مقتول کے والد کی جانب سے سزا میں اضافے کے لیے دائر اپیل کو سپریم کورٹ نے غیر موثر قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔







